پی ایم اے بلوچستان کا 30 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان، ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکسز مستردکرتے ہیں،ترجمان پی ایم اے بلوچستان

کوئٹہ(ویب ڈیسک) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان نے ایف بی آر کی جانب سے ڈاکٹروں اور نجی طبی اداروں پر نافذ کیے گئے نئے ٹیکس نظام کے خلاف پی ایم اے مرکز کی 30 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال اور طبی مراکز کی بندش کی کال کی بھرپور اور مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم اے بلوچستان کے صدر ڈاکٹر نعیم زرکون اور پوری کابینہ اس فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ترجمان پی ایم اے بلوچستان نے اپنے بیان میں کہا کہ صحت ایک بنیادی عوامی خدمت ہے، کوئی تجارتی کاروبار نہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے طبی خدمات کو ریٹیل تجارت کے زمرے میں شامل کرنا، نجی ہسپتالوں پر پوائنٹ آف سیل (POS) نظام زبردستی مسلط کرنا، بھاری جرمانے عائد کرنا اور طبی اداروں پر چھاپے مارنا ناقابلِ قبول ہے۔ ڈاکٹروں اور نجی طبی مراکز کو لاکھوں روپے جرمانے کے نوٹس جاری کرنا کھلی ہراسانی ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی جانب سے صوبے کے نجی ڈاکٹروں اور کلینکس پر عائد کیا گیا ٹیکس بھی سراسر ناانصافی ہے، جسے پی ایم اے بلوچستان یکسر مسترد کرتی ہے۔ ایک طرف وفاقی سطح پر طبی برادری کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے اور دوسری طرف صوبائی سطح پر اضافی ٹیکس کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو ناقابلِ برداشت ہے۔ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر اور نجی طبی ادارے پہلے ہی باقاعدگی سے انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور ملک کی صحت کی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر رہے ہیں۔ ان ٹیکسز کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہوگا، کیونکہ ہر ٹیکس کا بوجھ بالآخر مریض پر منتقل ہوتا ہے۔ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں، جہاں عوام پہلے ہی علاج معالجے کی سہولیات کے لیے مشکلات کا شکار ہیں، ان اقدامات سے علاج مزید مہنگا اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گا۔پی ایم اے بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت اور ایف بی آر فوری طور پر POS کی شرط واپس لیں، جاری کردہ جرمانے منسوخ کریں اور طبی اداروں پر چھاپوں اور ہراسانی کا سلسلہ بند کریں۔ ساتھ ہی صوبائی حکومت اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی نجی ڈاکٹروں اور کلینکس پر عائد ٹیکس فوری طور پر واپس لیں۔ کوئی بھی پالیسی بنانے سے قبل طبی برادری کو اعتماد میں لیا جائے۔ترجمان نے صوبے بھر کے ڈاکٹروں، نجی ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز سے اپیل کی کہ وہ 30 ستمبر کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ ظالمانہ اقدامات واپس نہ لیے گئے تو پی ایم اے مرکز کی ہدایت پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *