پاکستان کی 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل جو ایک بڑا قومی اثاثہ ہیں،ڈاکٹرطارق فضل چوہدری

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا سیاسی ایجنڈا جمہوری طریقوں سے آگے بڑھائے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے آئینی حقوق عام شہریوں کے حقوق اور روزمرہ زندگی کی قیمت پر استعمال نہیں کیے جا سکتے ۔جمعہ کو یہاں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو محاذ آرائی، تشدد اور تقسیم کے بجائے سیاسی استحکام، اتحاد اور اقتصادی ترقی کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے نظریات، پروگرامز اور آئینی آزادیوں کا حق حاصل ہے تاہم کسی گروہ کو امن و امان میں خلل ڈالنے یا شہریوں کی معمول کی سرگرمیاں انجام دینے سے روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سابقہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دارالحکومت کے رہائشیوں کو بھی آئینی حقوق حاصل ہیں جن میں کام کی جگہوں، بازاروں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی جس سے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہو ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے سابقہ احتجاج کے دوران رینجرز کے چار اہلکاروں کی شہادت کا حوالہ دیا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان طویل محاذ آرائی سے کوئی قومی مفاد حاصل نہیں ہوا۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں مسلم لیگ(ن)اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی رقابت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے بالآخر ایک دوسرے کے سیاسی وجود کا احترام کرنے اور سیاسی مقابلے کو جمہوری میدان تک محدود رکھنے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور ملک کے نوجوانوں کو سیاسی نفرت اور تقسیم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک بڑا قومی اثاثہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی توانائیوں کو تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، کاروبار اور قومی ترقی کی جانب مرکوز کیا جانا چاہیے۔وفاقی وزیر نے آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھانے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات شفاف اور قابل اعتماد تھے اور انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق انفرادی شکایات کو پورے عمل کو بدنام کرنے کے بجائے متعلقہ انتخابی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)نے خود حلقہ حویلی کے حوالے سے تحفظات اٹھائے تھے اور آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن سے معاملہ میرٹ پر طے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں پورے انتخابی عمل کو چیلنج کیے بغیر جمہوری اور آئینی فورمز کے ذریعے انتخابی اعتراضات اٹھا سکتی ہیں۔وفاقی وزیر نے اعتماد کا اظہار کیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی آئندہ ہفتے اجلاس منعقد کرے گی اور اس کے بعد مسلم لیگ(ن)کی قیادت میں نئی حکومت تشکیل پائے گی۔انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں امن کو متاثر کرنے والے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں اور کہا کہ سیاسی مقابلہ جمہوری ذرائع سے کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے پائیدار حل کے لیے کوششیں جاری رہیں گی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ملک کے لیے ٹھوس اقتصادی فوائد میں تبدیل کیا جانا چاہیے، جن میں سرمایہ کاری، روزگار اور نوجوانوں کے لیے مواقع شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ماہرین پہلے ہی دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، طب اور کاروبار کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ملک میں بہتر مواقع اور مساوی میدان فراہم کرنے سے وہ قومی معیشت میں مزید مثر کردار ادا کر سکیں گے ۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان کے یوم آزادی کی تقریبات کو ملک کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت سے بھی منسلک کیا اور کہا کہ تقریبات میں پاکستانی، سعودی اور ترک پرچموں کی موجودگی تینوں ممالک کے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ (مکہ معاہدہ) ایک اہم پیش رفت ہے جبکہ ملک کی عسکری صلاحیتوں نے خطے میں اس کے مقام کو مزید مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج بنیادی طور پر ملک کے دفاع کی ذمہ دار ہیں تاہم باہمی طور پر طے شدہ انتظامات کے تحت دوست ممالک کی سکیورٹی مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم کی سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تزویراتی اور دور اندیش قیادت نے ملک کی پوزیشن خصوصا سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں پوزیشن مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہے ۔وفاقی وزیر نے مسلح افواج، بالخصوص بھارت کے ساتھ مئی 2025 کے تنازع کے دوران ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتوں نے یہ پیغام دیا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو بھارتی پراکسیز کے ذریعے معاونت فراہم کی جا رہی ہے، حکومت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاسی قیادت عسکریت پسندی کے خلاف مل کر کام جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد پائیدار امن قائم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سکیورٹی کے چیلنجز ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو متاثر نہ کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یوم آزادی برصغیر کی تقسیم کے دوران عوام کی جانب سے دی جانے والی بے پناہ قربانیوں کی یاد دہانی ہے۔انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں سے سیکھیں جنہوں نے پاکستان کا قیام اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آزادی کے لیے ادا کی جانے والی قیمت کو سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ قومی مفاد ہر سیاسی رہنما اور سرکاری عہدیدار کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل اتحاد، سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی پر منحصر ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک اجتماعی کوشش اور قومی ترقی کے لیے مسلسل عزم کے ذریعے اپنے چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *