Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کراچی (ویب ڈیسک) ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی عالمی جامعات کی 2027 کی درجہ بندی میں پاکستان کی کوئی جامعہ دنیا کی ٹاپ 400 جامعات میں جگہ نہیں بنا سکی۔ ملک کی دو سب سے بڑی جامعات جامعہ کراچی 1601 اور جامعہ پنجاب 1801 نمبر پر رہیں، یہ صورتحال اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جامعات کی عالمی مسابقت کے دعووں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔درجہ بندی کے مطابق دنیا کی بہترین جامعہ کا اعزاز مسلسل گیارہویں سال برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے حاصل کیا۔ امریکا کی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) دوسرے، پرنسٹن اور اسٹینفورڈ مشترکہ تیسرے، کیمبرج پانچویں اور ہارورڈ چھٹے نمبر پر رہے۔ ایشیا میں چین کی سنگھوا یونیورسٹی 11ویں اور پیکنگ یونیورسٹی 13ویں نمبر پر ہیں۔ چین کی مجموعی طور پر 17 جامعات ٹاپ 200 میں شامل ہوئیں۔ جاپان کی پانچ جامعات اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں؛ یونیورسٹی آف ٹوکیو 27ویں اور کیوٹو یونیورسٹی مشترکہ 62ویں نمبر پر ہے۔ ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ملایا پہلی مرتبہ ٹاپ 200 میں داخل ہوئی اور مشترکہ 194ویں نمبر پر رہی۔پاکستانی جامعات کی درجہ بندی کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی 551 تا 600، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) 601 تا 650 اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد 651 تا 700 کے گروپ میں شامل ہیں۔701 تا 800: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف لاہور۔801 تا 1000: عبد الولی خان یونیورسٹی مردان، ایئر یونیورسٹی، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، گومل یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، اقراء یونیورسٹی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، یونیورسٹی آف دی پنجاب، یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا، یونیورسٹی آف گجرات، یونیورسٹی آف ملاکنڈ اور یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی۔1001 تا 1200: کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ہزارہ یونیورسٹی، اسلامیہ کالج پشاور، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS)، پی ایم اے ایس اریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی، سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہری پور، ویمن یونیورسٹی ملتان، یونیورسٹی آف اوکاڑہ، یونیورسٹی آف پشاور، یونیورسٹی آف سواتی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور۔1201 تا 1400: کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف سرگودھا، یونیورسٹی آف سوات، بحریہ یونیورسٹی۔1401 تا 1600: انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، سپیریئر یونیورسٹی۔1601 تا 1800: بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، جامعہ کراچی۔1801 تا 2000: خیبر میڈیکل یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی۔ 2001 سے آگے: نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS)پاکستانی جامعات کی کوئی نمائندگی ٹاپ 400 میں نہ ہونا اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معیار سے متعلق تشویشناک سوالات اٹھاتا ہے۔ درجہ بندی میں 56 جامعات کو باقاعدہ درجہ ضرور ملا، مگر ملک کی بہترین جامعہ بھی 551 تا 600 کے گروپ میں ہے۔ یہ صورتحال تحقیق، علمی پیداوار اور عالمی مسابقت کے دعووں کا سنجیدہ جائزہ لینے کا تقاضا کرتی ہے۔