عوامی مسائل کے حل اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے ہونے والی مثبت کوششوں کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنے کے بجائے صوبے کے وسیع تر مفاد میں دیکھا جانا چاہیے،میر امداد حسین مری

چھتر(ویب ڈیسک) قبائلی شخصیت کمانڈر میر امداد حسین مری نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے حوالے سے صوبائی وزیر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا ہے کمانڈر میر امداد حسین مری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام، قبائلی معتبرین، سیاسی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی آراء اور تجاویز حاصل کرنا تھا، تاکہ صوبے کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے ان کے حل کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات کی نشاندہی کی جاسکے انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر بلوچستان کے عوام سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں اور ان کا دل بلوچستان کے لوگوں کے بہت قریب ہے۔ اسی جذبے کے تحت بلوچستان سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات کو مدعو کیا گیا تاکہ صوبے کے مسائل، قومی سلامتی، امن و امان اور بلوچستان کے بہتر، محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حوالے سے ان کی آراء  اور تجاویز سنی جاسکیں کمانڈر میر امداد حسین مری نے کہا کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور تمام تر الزامات حقائق کے منافی ہیں، جن کی وہ دوٹوک اور سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ورکشاپ کا مقصد کسی مخصوص سیاسی یا ذاتی مفاد کا حصول نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کی آواز سننا، ان کے بنیادی مسائل کو سمجھنا، قبائلی و سیاسی قیادت سمیت مختلف طبقات کی تجاویز حاصل کرنا اور صوبے کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے مشترکہ طور پر قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کرنا تھا کمانڈر میر امداد حسین مری نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم اور مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل صوبہ ہے، جس کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے تمام طبقات کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے ہونے والی مثبت کوششوں کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنے کے بجائے صوبے کے وسیع تر مفاد میں دیکھا جانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *