Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت(ویب ڈیسک)ضلع کیچ اور گوادر کی تقریباً 180 طالبات کو بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے تحت بیوٹیشن تربیتی پروگرام میں 52 ہزار روپے فی طالبہ منتقل کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر مختلف رقوم واپس لینے کے مطالبے نے طالبات اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔طالبات کے مطابق تربیتی پروگرام کے آغاز سے قبل انہیں بتایا گیا تھا کہ رہائش، آمدورفت اور دیگر ضروری اخراجات پروگرام کے تحت برداشت کیے جائیں گے، جبکہ انہیں وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا۔ بعد ازاں BRSP کی جانب سے DSU کے ذریعے ہر طالبہ کے موبائل اکاؤنٹ میں 52 ہزار روپے منتقل کیے گئے۔طالبات کا کہنا ہے کہ رقم منتقل ہونے کے بعد انہیں بتایا جا رہا ہے کہ گوادر سے تعلق رکھنے والی طالبات سے 46 ہزار روپے جبکہ کیچ/تربت سے تعلق رکھنے والی طالبات سے 42 ہزار روپے واپس کیے جائیں۔ طالبات کے مطابق اس صورتحال نے یہ بنیادی سوال پیدا کردیا ہے کہ اگر ہر طالبہ کے اکاؤنٹ میں 52 ہزار روپے منتقل کیے گئے ہیں تو اس سے زائد یا مختلف رقم واپس لینے کا مطالبہ کس مد، کس حساب اور کس منظور شدہ طریقہ کار کے تحت کیا جا رہا ہے۔طالبات کے مطابق BRSP کے بعض عہدیداران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیچ کی طالبات 10 ہزار روپے جبکہ گوادر کی طالبات 6 ہزار روپے اپنے پاس رکھیں اور باقی رقم واپس کریں۔ تاہم طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں تاحال تحریری طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ باقی رقم کس مد میں واپس لی جا رہی ہے اور 52 ہزار روپے فی طالبہ کی ادائیگی کا اصل مقصد کیا تھا۔طالبات نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر 10 ہزار یا 6 ہزار روپے طالبات کے ذاتی اخراجات یا وظیفے کے طور پر ان کے لیے مقرر کیے گئے ہیں تو باقی رقم کی واپسی کس بنیاد پر طلب کی جا رہی ہے؟ اور اگر واپس کی جانے والی رقم رہائش، ٹرانسپورٹ یا تربیتی اخراجات کی مد میں ہے تو اس کا مکمل حساب کتاب، منظور شدہ بجٹ اور اخراجات کی تفصیل طالبات کے سامنے کیوں نہیں رکھی جا رہی؟متاثرہ طالبات کا کہنا ہے کہ انہیں پروگرام کے آغاز میں رہائش اور سفری سہولیات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی تھی، اس لیے رقم ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کے بعد دوبارہ مختلف مدوں میں رقم واپس مانگنے سے ابہام پیدا ہوا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ BRSP، DSU اور IRM مشترکہ طور پر واضح کریں کہ 52 ہزار روپے فی طالبہ کس مد میں جاری کیے گئے، کتنی رقم رہائش، کتنی ٹرانسپورٹ، کتنی تربیت اور کتنی طالبات کے وظیفے کے لیے مختص تھی۔عوامی حلقوں نے معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو ہنر فراہم کرکے انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کے دعوے کرتی ہے، لیکن اگر تربیتی پروگرام میں شامل طالبات کو رقم کی ادائیگی اور پھر اس کی واپسی کے معاملے میں واضح طریقہ کار فراہم نہ کیا جائے تو اس سے حکومتی پروگراموں کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان اور BRSP کے اعلیٰ حکام فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے 52 ہزار روپے فی طالبہ کی مکمل مالی تفصیل، طالبات سے واپس طلب کی جانے والی رقم، رہائش و ٹرانسپورٹ کے اخراجات، IRM کو کی جانے والی ادائیگیوں اور متعلقہ بجٹ و منظوری کا ریکارڈ طلب کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر طالبات سے رقم واپس لینے کی کوئی باقاعدہ اور منظور شدہ مد موجود ہے تو اسے تحریری طور پر واضح کیا جائے، جبکہ اگر کسی غیر مجاز شخص یا ادارے کی جانب سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔طالبات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کرائی جائے اور طالبات کو واضح طور پر بتایا جائے کہ ان کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے 52 ہزار روپے میں سے کتنی رقم ان کا حق ہے اور باقی رقم کس مد میں واپس مانگی جا رہی ہے۔