Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا دورہ اسلام آباد پاکستان اور شام کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی اور معاشی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام اور دمشق میں پاکستان، شام مشترکہ سرمایہ کاری فورم کے انعقاد پر اتفاق اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے تاریخی سیاسی تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر تجارت جام کمال سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقاتیں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک منظم فریم ورک تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ مشترکہ کاروباری کونسل دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو قریب لانے، تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ شام کی تعمیر نو پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی موقع بن سکتی ہے۔ انفراسٹرکچر، تعمیرات، توانائی، صحت، تعلیم، انجینئرنگ، ادویات اور انسانی وسائل کے شعبوں میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیوں کی مہارت شام کی تعمیر نو کے عمل میں عملی طور پر معاون ثابت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شام پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ کی وسیع منڈیوں تک کاروباری رسائی کا ایک اہم دروازہ بھی بن سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے درمیان روابط کو ادارہ جاتی بنیادوں پر فروغ دیں تو دوطرفہ اقتصادی تعاون میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ گولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر پاکستان کی جانب سے شام کے مؤقف کی حمایت اور شام کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی توثیق دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی اعتماد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ تاہم سیاسی حمایت کو پائیدار معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے بینکاری، ادائیگیوں، تجارت، سفری سہولیات اور سرمایہ کاری سے متعلق عملی رکاوٹوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ شام کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ محض سفارتی رابطہ نہیں بلکہ پاکستان اور شام کے درمیان نئے اقتصادی باب کا آغاز بن سکتا ہے۔ مشترکہ کاروباری کونسل اور سرمایہ کاری فورم کو مؤثر اور فعال بنایا گیا تو یہ تعاون پاکستان کی برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے ساتھ ساتھ شام کی تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔