خستہ حال سڑکوں کو تعمیر کیا جائے، حادثات معمول بن چکے ہیں، پشتونخوامیپ چمن

چمن(ویب ڈیسک)پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع چمن کے ضلعی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ چمن کے روغانی روڈ پر ٹریفک حادثہ کے باعث ایک شخص جاں بحق ہوا سڑک کی ابتر حالت کے باعث آئے روز حادثات پیش آرہے ہیں چمن کے گنجان آباد روغانی روڈ پر سڑک کی شکستہ حالی کے باعث ہونے والے ایک اور ٹریفک حادثے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چل بسا۔واقعہ گزشتہ روز روغانی روڈ پر پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ روڈ کی ابتر اور دگرگوں حالت کے باعث پیش آیا خستہ حال سڑک کی وجہ سے آئے روز موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم ہوتے ہیں۔ سڑک پر گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور ٹریفک سگنلز کی عدم موجودگی کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں۔جاں بحق ہونے والے کی شناخت 52 سالہ عبدالغنی ولد باز محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ روغانی روڈ موت کا کنواں بن گئی روغانی روڈ چمن کا مصروف ترین اور گنجان آباد تجارتی روڈ ہے۔ لیکن گزشتہ کئی سالوں سے اس کی مرمت نہیں ہوئی۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بارش کے بعد پانی جمع ہونے سے گڑھے نظر نہیں آتے رات کو لائٹس کا فقدان ہوتا ہے رات کے وقت اندھیرا ہونے کی وجہ سے حادثات کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے افغانستان بارڈر سے منسلک ہونے کے باعث ہیوی ٹریفک، ٹرک اور رکشے اسی ایک روڈ پر چلتے ہیں۔بیان میں ڈپٹی کمشنر چمن، کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور محکمہ C&W سے مطالبہ کیا ہے کہ روغانی روڈ اور رابطہ پلوں کی فوری مرمت اور تعمیر کی جائے۔سڑک پر سٹریٹ لائٹس، اور ٹریفک سگنلز نصب کیے جائیں۔ہیوی ٹریفک کے لیے متبادل راستہ بنایا جائے۔حادثات میں کمی کے لیے ٹریفک حغاظتی اقدامات بڑھائی جائے۔”یہ سڑک روزانہ ہمارے جوان نگل رہی ہے۔ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا ہے۔ آیا ناں اونٹ پہاڑ کے نیچے – اب حکومت کب جاگے گی؟”روغانی روڈ کے حادثات کے مریض ہر روز لائے جاتے ہیں۔ سڑک کی خرابی کی وجہ سے زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے جس سے اموات بڑھ رہی ہیں۔ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر روغانی روڈ کی فوری مرمت نہ کی گئی تو وہ احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *