Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ (این این آئی) امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری امیرالعظیم اخلاص،استقامت جدوجہدکاروشن مثال تھاجماعت اسلامی وقوم کیلئے ان کی خدمات رہتی دنیاتک یادرکھی جائیگی۔پوری زندگی اسلام کی سربلندی،اقامت دین،عوام کی خدمت،تحریک اسلامی کیلئے وقف کررکھی تھی۔آمریت کاڈٹ کرمقابلہ کیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں امیرالعظیم مرحوم کی یادمیں منعقدہ تعزیتی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرجماعت جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر ڈاکٹرعطاء الرحمان ودیگرنے بھی خطاب کیامولاناہدایت الرحمن بلوچ کی ہدایت پربلوچستان بھرمیں تعزیتی ریفرنسز،دعائیہ تقاریب منعقدہوئی۔اس موقع امرائے اضلاع وذمہ داران نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ امیرالعظیم مرحوم جماعت اسلامی پاکستان کی اْن ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی،اقامتِ دین، عوام کی خدمت اور تحریکِ اسلامی کی مضبوطی کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ ایک مدبر منتظم، باوقار رہنما،بہترین مقرر، صاحبِ قلم، مخلص داعی اور بااصول سیاسی کارکن تھے۔ ان کی زندگی اخلاص، استقامت، قربانی اور وفاداری کا عملی نمونہ تھی۔طالب علمی ہی کے زمانے میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوگئے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے باعث جلد نمایاں مقام حاصل کیا۔وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم، بعد ازاں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے طلبہ کے حقوق کی مؤثر آواز بلند کی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اسی دوران جیل میں رہتے ہوئے وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے، جو ان پر کارکنان کے غیر معمولی اعتماد کا اظہار تھا۔جمعیت سے فراغت کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ طویل عرصے تک جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہیجماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ دو مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہونے اس اہم ذمہ داری پر فائز رہے اور جماعت کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، کارکنان کی تربیت اور ملک گیر تحریکی سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔امیرالعظیم? نے صرف تنظیمی میدان ہی میں نہیں بلکہ قومی اور جمہوری جدوجہد میں بھی ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا۔ وکلاء تحریک اور چیف جسٹس بحالی تحریک میں وہ صفِ اول کے قائدین میں شامل رہے۔ لانگ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے پھینکا گیا آنسو گیس کا شیل ان کے سر پر لگا، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس زخم کا نشان زندگی بھر ان کی پیشانی پر نمایاں رہا، جو حق و انصاف کی جدوجہد کی ایک زندہ علامت بن گیا۔امیرالعظیم کی دینی خدمات بھی بے مثال تھیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی دعوت، اسلامی نظام کے قیام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی تقاریر، تحریریں، فکری رہنمائی اور تنظیمی بصیرت نے جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان کی تربیت کی۔ وہ ہمیشہ نرم خو، بااخلاق، سادہ مزاج، دیانت دار اور انتہائی مخلص شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔شدید علالت کے باوجود انہوں نے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا مظاہرہ کیا۔ بیماری ان کے عزم، حوصلے اور تحریکی وابستگی کو کبھی متزلزل نہ کر سکی۔ ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اخلاص، قربانی اور ثابت قدمی کے ساتھ اللہ کے دین کی خدمت کرنے والا انسان ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔امیرالعظیم کی رحلت جماعت اسلامی، تحریکِ اسلامی اور پاکستان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، لیکن ان کی جدوجہد، کردار، فکری وراثت اور دینی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی رہیں گی۔تعزیتی ریفرنس دعائیہ تقاریب میں امیرالعظیم کی مغفرت کیلئے خصوصی دعائیں کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔