تاجر حقیقی آمدن کے مطابق ٹیکس ادا کریں، کاشف حیدری

کوئٹہ (ویب ڈیسک) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ تاجر برادری ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں نہیں، تاہم ضروری ہے کہ ٹیکس کا نظام تاجروں کی حقیقی آمدن، کاروباری حالات اور زمینی حقائق کے مطابق ہو۔ ہر تاجر اپنی آمدن کے مطابق ٹیکس ریٹرن جمع کرائے اور قانون کے تحت جتنا ٹیکس بنتا ہے، وہ ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس نظام کے تحت باقاعدگی سے گوشوارے جمع کرانے والے تاجر اسی طریقہ کار کے مطابق اپنی ریٹرن فائل کرسکتے ہیں، جبکہ نئی ٹیکس اسکیم کے دائرے میں آنے والے تاجر اس کی شرائط اور اپنے کاروباری حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ ان کے لیے کون سا طریقہ زیادہ مناسب ہے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ نئی اسکیم میں ٹرن اوور کی بنیاد پر ایک فیصد ٹیکس اور کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس کی شرط رکھی گئی ہے، اس لیے تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کاروباری صورتحال کا درست اندازہ لگاتے ہوئے ٹیکس کے حوالے سے فیصلہ کریں۔ ہماری نظر میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تاجر اپنی حقیقی آمدن ظاہر کرے، ٹیکس ریٹرن جمع کرائے اور اپنی ذمہ داری کے مطابق ٹیکس ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے مسائل صرف انکم ٹیکس تک محدود نہیں بلکہ سیلز ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر مختلف ٹیکسز کے حوالے سے بھی کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان معاملات پر تاجر تنظیم کی جانب سے اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کی جاتی رہے گی اور متعلقہ حکام کے سامنے تاجروں کے جائز تحفظات اور مطالبات پیش کیے جاتے رہیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ ٹیکس کا ایسا نظام ہونا چاہیے جو پیچیدہ طریقہ کار اور غیرضروری بوجھ کے بجائے آسانی اور شفافیت پر مبنی ہو۔ تاجروں کو اعتماد میں لے کر بنائی جانے والی پالیسیاں نہ صرف کاروباری طبقے کے لیے بہتر ثابت ہوں گی بلکہ ٹیکس نظام میں بھی بہتری اور شفافیت لانے میں مددگار ہوں گی۔ کاشف حیدری نے کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان تاجروں کے جائز حقوق، کاروباری مفادات اور ایک قابلِ عمل ٹیکس نظام کے لیے اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کرتی رہے گی۔ ہمارا اصول واضح ہے کہ جائز ٹیکس ادا کیا جائے، مگر ٹیکس کا نظام بھی جائز، منصفانہ اور کاروباری حالات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *