بلوچستان کی سیاسی سمت کا فیصلہ عوام کے آزادانہ اور حقیقی مینڈیٹ سے کیا جائے، مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(پ ر )جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے اصل وارث یہاں کے عوام ہیں، جمعیت علماءاسلام عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت کی حیثیت سے عوام کے حقِ حاکمیت، حقِ رائے دہی، آئینی حقوق اور سیاسی اختیار کی جنگ ہر محاذ پر لڑتی رہے گی، عوام کے مینڈیٹ کو روند کر اور انتخابات کے نام پر عوامی فیصلے کو بے معنی بنا کر رچایا گیا گھناو¿نا سیاسی کھیل اب اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ناگزیر ہوچکا ہے، وفاقی حکومت کی تشکیل کے سودے میں بلوچستان حکومت کو بطور سیاسی بارگیننگ چِپ استعمال کرنا مزید کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، بلوچستان کے اقتدار اور عوامی مینڈیٹ کو وفاقی سیاسی سودے بازی کا مالِ تجارت بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور صوبے کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ بند کمروں کے سیاسی فارمولوں کے بجائے بلوچستان کے عوام کے حقیقی مینڈیٹ سے کیا جائے، بلوچستان کو مصنوعی سیاسی بندوبست، مسلط شدہ اقتدار اور غیر نمائندہ انتظامی فارمولوں کے رحم و کرم پر مزید نہیں چھوڑا جاسکتا، صوبے کو اس کی حقیقی عوامی نمائندہ قیادت کے سپرد کیا جائے، مصنوعی سیاسی کھیپ کو اقتدار کے ایوانوں پر بٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بلوچستان سیاسی بے یقینی، معاشی جمود، انتظامی مفلوجیت، بدامنی اور محرومیوں کے ایسے گرداب میں دھنس چکا ہے جس کا خمیازہ براہِ راست عوام بھگت رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا اعتماد، ان کا حقیقی مینڈیٹ اور ان کی سیاسی تائید حاصل کرکے بننے والی جواب دہ اور بااختیار حکومت ہی صوبے کو بحرانوں کے حصار سے نکال سکتی ہے، بلوچستان وسائل، معدنی دولت، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان کی معاشی ترقی کا انجن بننے اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے نمائشی سیاست نہیں بلکہ مضبوط سیاسی ارادہ، شفاف حکمرانی، آئینی بالادستی، وسائل پر صوبے کا حق اور عوامی مینڈیٹ کا غیر مشروط احترام ضروری ہے، رہنماو¿ں نے کہا کہ ضد، انا، سیاسی انتقام اور اقتدار کی بندربانٹ نے بلوچستان کے سیاسی ماحول کو انتشار، محاذ آرائی اور بے یقینی کی آماجگاہ بنا دیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان مزید مصنوعی حکومتوں، سیاسی تجربات، غیر فطری اتحادوں اور عوامی مینڈیٹ سے انحراف کا متحمل ہوسکتا ہے؟ اب وقت آگیا ہے کہ بند کمروں میں طے ہونے والے سیاسی فارمولوں کے بجائے عوام کی عدالت سے رجوع کیا جائے، عوام کے ووٹ کو محض انتخابی عمل کی رسمی کارروائی نہیں بلکہ اقتدار کے حقیقی سرچشمے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بلوچستان کی سیاسی سمت کا فیصلہ عوام کے آزادانہ اور حقیقی مینڈیٹ سے کیا جائے، انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ ملک کے وسیع تر مفاد، آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، قومی یکجہتی اور ملکی استحکام کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر مقدم رکھا ہے، جماعت نے مختلف مواقع پر اپنے سیاسی مفادات داو¿ پر لگائے مگر ریاستی استحکام اور قومی وحدت پر آنچ نہیں آنے دی، مختلف ادوار میں سیاسی کارڈ کھیلنے، مفادات کی بساط بچھانے اور اقتدار کے حصول کے لیے مختلف حربے آزمانے والے عناصر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکے ہیں، لیکن جن سیاسی قوتوں کی سیاست کی بنیاد پاکستان، آئین، جمہوریت، عوامی حقوق اور پارلیمانی بالادستی پر ہے، انہیں مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ طرزِ عمل نہ جمہوری روح سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی بلوچستان کے عوام کے سیاسی شعور، اجتماعی فیصلے اور حقِ رائے دہی کا احترام ہے، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اور مصنوعی بیانیوں کے ذریعے سیاسی حقیقت کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا، نوشتہ دیوار پڑھ لیا جائے، عوام کے حقِ رائے دہی کو تسلیم کیے بغیر سیاسی استحکام، پائیدار امن اور حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، اقتدار کسی فرد، گروہ یا مصنوعی سیاسی بندوبست کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اس امانت کا فیصلہ عوام کے ووٹ، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوری مینڈیٹ کے ذریعے ہی ہونا چاہیے، جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے عوام کے سیاسی، آئینی، معاشی، قومی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر سطح پر پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *