بلوچستان میں مائننگ میں کام کرنے والی کمپنیوں مقامی، اہل، تجربہ کار اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کو ترجیح دی جائے، آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چاغی کے صدر میر احمد محمد حسنی

چاغی(ویب ڈیسک) آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چاغی کے صدر میر احمد محمد حسنی ریکوڈک پروجیکٹ، سیندک پروجیکٹ اور بلوچستان میں کام کرنے والی دیگر بڑی معدنی کمپنیوں میں ٹھیکوں کی تقسیم اور مقامی ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی، اہل، تجربہ کار اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کو ترجیح دی جائے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں میراحمد محمد حسنی نے کہا کہ ریکو ڈک،بیرک،سیندک میٹلز لمیٹڈ،ایم سی سی ریسوررسز ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، نیشنل ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈاور بلوچستان میں معدنی شعبے سے وابستہ دیگر کمپنیوں کو چاہیے کہ مقامی ٹھیکیداروں کو ترجیح دیتے ہوئے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظام قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ مقامی افراد اور مقامی کمپنیوں کو ترجیح دینا خوش آئند اقدام ہے تاہم مقامی ترجیح کے ساتھ ساتھ قانونی، فنی، مالی اور تجربے سے متعلق تمام مطلوبہ شرائط کو بھی پورا کرنا ضروری ہے۔ صرف NTN نمبر رکھنے سے کوئی شخص قانونی طور پر انجینئرنگ یا تعمیراتی کام کا اہل ٹھیکیدار نہیں بن جاتا بلکہ متعلقہ رجسٹریشن، تجربہ، فنی اہلیت اور دیگر قانونی تقاضے بھی پورے کرنا ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان، بالخصوص ضلع چاغی کے متعدد مقامی ٹھیکیدار باقاعدگی سے پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (BPPRA)، سیلز ٹیکس اور دیگر متعلقہ اداروں کے تقاضے پورے کرتے ہیں سالانہ فیسیں ادا کرتے ہیں اور قانون و قواعد کے مطابق مختلف سرکاری و نجی منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے مقامی ٹھیکیدار جو کئی سالوں سے قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ ریکوڈک، سیندک اور دیگر معدنی منصوبوں میں انہیں شفاف طریقے سے رجسٹریشن، پری کوالیفکیشن اور ٹینڈرز میں حصہ لینے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پروجیکٹ، سیندک پروجیکٹ اور دیگر بڑے معدنی منصوبوں میں مقامی ٹھیکیداروں کو نظرانداز کرنے کے بجائے ضلع چاغی اور بلوچستان کے اہل، تجربہ کار اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ٹھیکیداروں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد مقامی کاروباری طبقے اور عوام تک بھی پہنچ سکیں۔انہوں نے ریکو ڈک،بیرک،سیندک میٹلز لمیٹڈ،ایم سی سی ریسوررسز ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، نیشنل ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ کمپنیوں کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مقامی ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن اور پری کوالیفکیشن کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور تمام متعلقہ قوانین و قواعد کے مطابق بنایا جائے، تاکہ کسی بھی اہل اور مستحق مقامی ٹھیکیدار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔انہوں نے حکومت بلوچستان، متعلقہ وفاقی اداروں اور معدنی منصوبوں کی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ضلع چاغی سمیت بلوچستان کے مقامی ٹھیکیداروں کو قانون، میرٹ اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ترجیح دے کر وینڈرز اور ٹھیکیداروں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقامی ٹھیکیداروں کے ساتھ قانونی، شفاف اور مساوی سلوک نہ کیا گیا اور انہیں بلاجواز رجسٹریشن، پری کوالیفکیشن یا ٹینڈرز کے عمل سے باہر رکھا گیا تو آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن چاغی متعلقہ حکام، قانونی فورمز اور عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *