Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ(ویب ڈیسک)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی مسلم ممالک کے درمیان باہمی سلامتی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی، باہمی عدم اعتماد اور مسلسل سکیورٹی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایران کی یہ تجویز اگر عملی شکل اختیار کرتی ہے تو خطے میں ایک ایسے نئے سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد بن سکتی ہے جس میں علاقائی ممالک اپنی سلامتی کیلئے باہمی تعاون اور مکالمے کو فروغ دیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے اس تجویز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی 7 اگست 2026 کو مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے ذریعے دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے ایک نئے فریم ورک کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔ معاہدے کی روح بھی دفاعی نوعیت کی ہے اور اسے کسی ملک کے خلاف قرار نہیں دیا گیا۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ اگر ایران بھی کسی وسیع تر علاقائی سلامتی کے نظام کا حصہ بنتا ہے تو پاکستان کیلئے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے دفاعی روابط برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ بھی سکیورٹی تعاون بڑھانے کا ایک منفرد موقع پیدا ہوگا۔ یوں پاکستان مختلف مسلم ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل اور علاقائی امن و استحکام کے اہم ضامن کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایسے انتظام سے گریز کرنا ہوگا جسے ایران، سعودی عرب، ترکیہ، امریکہ یا خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف محاذ تصور کیا جائے۔ بہترین راستہ ایک دفاعی، غیر جارحانہ، شفاف اور باہمی خودمختاری کا احترام کرنے والا علاقائی سکیورٹی نظام ہے، جس کا مقصد کسی ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ بیرونی جارحیت، دہشت گردی اور عدم استحکام کے خطرات کا اجتماعی طور پر مقابلہ کرنا ہو۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ ایسے علاقائی سکیورٹی نظام کو صرف فوجی تعاون تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سکیورٹی، بحری تحفظ، دفاعی ٹیکنالوجی، توانائی کے تحفظ، ہنگامی حالات میں رابطہ کاری اور بحران کے دوران سفارتی مشاورت بھی شامل ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی طویل مشترکہ سرحد، خصوصاً بلوچستان کی حساس سکیورٹی صورتحال، دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سکیورٹی تعاون کو پاکستان کے قومی مفاد کیلئے نہایت اہم بناتی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، دفاعی اور معاشی تعلقات بھی اس علاقائی فریم ورک کو زیادہ مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ایران کی تجویز اور پاکستان، سعودی عرب و ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والا دفاعی تعاون اگر ایک دوسرے کے متوازی محاذ بنانے کے بجائے وسیع تر علاقائی امن کے مقصد سے آگے بڑھتا ہے تو پاکستان کو اس میں ایک منفرد سفارتی کردار مل سکتا ہے۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد سازی، باہمی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح پاکستان نہ صرف اپنی دفاعی اور سفارتی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے بلکہ خطے میں تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور معاشی رابطوں کیلئے بھی زیادہ سازگار ماحول پیدا کر سکتا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت مضبوط اور متوازن تعلقات پاکستان کی ایک اہم اسٹریٹجک طاقت بن سکتے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا کہ کسی بھی نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد بنانے کے بجائے امن، خودمختاری، عدم جارحیت اور اجتماعی سلامتی کے اصولوں پر قائم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس عمل میں متوازن، فعال اور تعمیری کردار ادا کرتا ہے تو وہ محض کسی دفاعی فریم ورک کا رکن نہیں رہے گا بلکہ مختلف مسلم ممالک کے درمیان پل، اعتماد سازی کے مرکز اور علاقائی امن کے اہم ضامن کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہی پاکستان کیلئے اس پوری پیش رفت کا سب سے بڑا اسٹریٹجک فائدہ ہوگا۔یہ ورین اصل بیان کے مقابلے میں زیادہ ریاستی اور سفارتی tone رکھتا ہے، جبکہ پاکستان کی پوزیشن کو ایران کے ساتھ قربت اور سعودی عرب/ترکیہ کے ساتھ موجود دفاعی معاہدے کے درمیان متوازن دکھاتا ہے۔ ایران کے صدر کی تازہ تجویز میں بھی مسلم ممالک کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے اور اجتماعی سلامتی پر زور دیا گیا ہے، جبکہ قطر کے وزیراعظم اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر کی 27 اگست کی ملاقات میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی عمل کی بحالی پر بات ہوئی۔