Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کراچی(ویب ڈیسک) ایران جنگ کے باعث عالمی شپنگ روٹس، جنگی خطرات کی انشورنس اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے باعث پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے امریکا کی مارکیٹوں تک رسائی شدید متاثر ہورہی ہے بعض روٹس پر شپنگ اخراجات میں 200 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے حکومت کو برآمد کنندگان کی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے یہ نشاندہی کی کہ کراچی سے نیویارک ایک کنٹینر کا فریٹ جو پہلے تقریباً 2 ہزار ڈالر تھا اب بڑھ کر 8 سے 9 ہزار ڈالر تک جا پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کی جائے بصورت دیگر پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹوں میں مسابقت کی صلاحیت کھو سکتی ہیں۔اسماعیل ستار کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں شپنگ ریٹس میں اضافہ ہوا ہے تاہم پاکستان میں بعض روٹس پر اضافہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے جس کا براہ راست بوجھ برآمد کنندگان پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بڑی تعداد میں جہاز جبل علی کے راستے آپریٹ ہوتے تھے مگر موجودہ صورتحال میں روٹ متاثر ہونے سے کراچی سے جبل علی کا فریٹ 100 سے 200 ڈالر سے بڑھ کر 4 سے 5 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جہازوں کی دستیابی بھی کم ہوگئی ہے جس سے سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن بگڑنے کے باعث فریٹ ریٹس میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ویتنام سے نیویارک ایک کنٹینر کا فریٹ تقریباً 3 سے 4 ہزار ڈالر ہے جبکہ پاکستان سے یہی کنٹینر 8 سے 9 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ تقریباً 5 ہزار ڈالر کا یہ فرق پاکستانی برآمدکنندگان کو عالمی خریداروں کے سامنے واضح مسابقتی نقصان سے دوچار کررہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس مؤثر قومی شپنگ کیریئر اور کنٹینرائزڈ کارگو کے لیے مناسب فلیٹ موجود نہیں جبکہ چین، کوریا سمیت کئی ممالک اپنے قومی شپنگ کیریئرز کے ذریعے بحران کے دوران اپنی تجارت کو سہارا دیتے ہیں۔اسماعیل ستار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر برآمدکنندگان، شپنگ کمپنیوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے، غیر معمولی فریٹ چارجز کا جائزہ لیا جائے اور برآمدکنندگان کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بروقت مداخلت نہ کی گئی تو زائد شپنگ لاگت کے باعث برآمدی آرڈرز، زرمبادلہ اور ملکی برآمدات مزید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہیں۔