Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کراچی(ویب ڈیسک) ایڈیشنل سیشن جج سینٹرل کی عدالت نے بدفعلی کے الزام میں نامزد ملزم شاہنواز کو بری کردیا۔ عدالت نے ملزم کی دفعہ 265 کے تحت دائر بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا۔سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 2 کراچی سینٹرل میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم شاہنواز کی جانب سے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔مقدمے کے مطابق متاثرہ بچے چاند حسین کی والدہ شاہین زوجہ غلام شبیر نے ملزم شاہنواز اور اس کے کزن محمد علی کے خلاف تھانہ تیموریہ میں ایف آئی آر نمبر 812/24، زیر دفعہ 377-B کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ملزم شاہنواز پر الزام تھا کہ وہ متاثرہ بچے چاند حسین کو اپنے کزن محمد علی کی جھونپڑی میں لے کر گیا، جہاں مبینہ طور پر بچے کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ملزم کے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شاہنواز اور متاثرہ بچہ دوست تھے اور ملزم نے بچے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔وکیل کے مطابق شاہنواز کے ساتھ متاثرہ بچہ چاند حسین اس کے کزن محمد علی کی جھونپڑی میں گیا تھا۔ وہاں محمد علی نے مبینہ طور پر شاہنواز اور چاند حسین کو نشہ آور چیز اور چائے پلائی، جس کے بعد دونوں بے ہوش ہوگئے۔ وکیل کے مطابق محمد علی نے اس دوران دونوں کے ساتھ بدفعلی کی۔لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے بتایا کہ متاثرہ بچے نے اپنے دفعہ 161 اور 164 ضابطہ فوجداری کے بیانات میں بھی کہا تھا کہ شاہنواز نے اسے بتایا کہ اس کے ساتھ محمد علی نے بدفعلی کی ہے۔وکیل کے مطابق شاہنواز نے پولیس کو اپنے انٹروگیشن بیان میں بھی بتایا تھا کہ اس کے ساتھ بھی زیادتی ہوئی ہے۔ پولیس نے اسی کیس میں شاہنواز کو ملزم کے ساتھ ساتھ گواہ اور متاثرہ بھی قرار دیا۔وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ملزم شاہنواز اور متاثرہ بچے کی میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس سے شاہنواز کے خلاف بدفعلی ثابت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ بچہ اور اس کی والدہ یہ نہیں دیکھ سکے کہ بچے کے ساتھ کس شخص نے زیادتی کی، کیونکہ بچہ مبینہ طور پر نشہ آور چیز اور چائے پینے کے بعد بے ہوش تھا۔وکیل کے مطابق متاثرہ بچے اور اس کی والدہ نے عدالت میں تحریری طور پر مؤقف اختیار کیا کہ شاہنواز کا نام غلط فہمی کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم شاہنواز کی دفعہ 265 کے تحت دائر بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے بری کردیا اور مقدمہ نمٹا دیا۔