عامر لیاقت کی نازیبا تصاویر وائرل کرنے کا کیس، گواہ کے ایف آئی اے پر سنگین الزامات

کراچی(ویب ڈیسک)جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں عامر لیاقت کی نازیبا تصاویر وائرل کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران گواہ مقصود کیمرہ مین نے ایف آئی اے کی تفتیش اور اپنے سابقہ بیان سے متعلق اہم انکشافات کردیئے۔کیس کی سماعت کے موقع پر ملزمہ دانیہ شاہ اپنے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ ملزمہ کے وکیل نے گواہ مقصود کیمرہ مین کے بیان پر جرح مکمل کرلی۔جرح کے دوران گواہ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے اس کا دفعہ 161 کا بیان خود تحریر کیا، اس نے ایف آئی اے کو اپنا بیان نہیں دیا۔ گواہ کے مطابق ایف آئی اے نے اس سے سادہ کاغذ پر دستخط بھی لیے تھے۔گواہ مقصود نے عدالت کو بتایا کہ یاسر شامی نے لودھراں میں اس کی موجودگی میں دانیہ شاہ کا کوئی انٹرویو ریکارڈ نہیں کیا تھا۔گواہ کے مطابق وہ کبھی لودھراں نہیں گیا اور نہ ہی اس کی موجودگی میں دانیہ شاہ نے یاسر شامی کو کوئی ویڈیو دی۔مقصود نے مزید بیان دیا کہ اس نے اس سے قبل عدالت میں جو بیان دیا تھا وہ ایف آئی اے کے کہنے پر دیا تھا۔ س کا کہنا تھا کہ اس کی موجودگی میں یاسر شامی کو کوئی ویڈیو نہیں دکھائی گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے کیس کے دیگر گواہوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *