سندھ ہائیکورٹ، بیوی کے پاؤں پر گولی لگنے کے مقدمے میں ملزم اسماعیل کی ضمانت منظور

کراچی(ویب ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے بیوی کے پاؤں پر گولی مارنے کے مقدمے میں نامزد ملزم محمد اسماعیل کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے 50 ہزار روپے کے مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس میران محمد شاہ نے ملزم محمد اسماعیل کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر سماعت کی اور دونوں مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔ملزم اسماعیل کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 8 کراچی ویسٹ نے 22 جون 2026 کو مسترد کردی تھی، جس کے خلاف ملزم نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ملزم کے خلاف اس کی اہلیہ ثناء  کی مدعیت میں تھانہ سرجانی ٹاؤن میں اقدام قتل کی دفعہ 324 کے تحت ایف آئی آر نمبر 554/2026 درج کی گئی تھی، جبکہ لائسنس یافتہ پستول کے مبینہ غلط استعمال پر سرکار کی مدعیت میں سب انسپکٹر نعیم کی جانب سے ایف آئی آر نمبر 555/2026، دفعہ 25 کے تحت درج کی گئی تھی۔ملزم کے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ محمد اسماعیل بے گناہ ہے اور اس نے اپنی بیوی کے پاؤں پر گولی نہیں ماری۔ ان کے مطابق مدعیہ خود پستول صاف کررہی تھی کہ اچانک ٹریگر دب گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئی۔وکیل نے بتایا کہ ملزم خود اپنی زخمی بیوی کو علاج کے لیے اسپتال لے کر گیا، جہاں پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے لائسنس یافتہ پستول کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔لیاقت گبول ایڈووکیٹ کے مطابق میاں بیوی کے درمیان خاندانی تنازع تھا جو اب ختم ہوچکا ہے، جبکہ مدعیہ کو بھی ملزم کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں۔ مدعیہ کی جانب سے عدالت میں حلف نامہ بھی جمع کرایا گیا کہ ملزم کی ضمانت منظور ہونے پر اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کراچی ویسٹ نے میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم محمد اسماعیل کی دونوں مقدمات میں درخواست ضمانتیں 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *