Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

ریک جویک(انٹر نیشنل ڈیسک)آئس لینڈ میں ووٹروں نے یورپی یونین میں شمولیت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں ہونے والے ریفرنڈم میں اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔ یہ ووٹنگ شمالی اوقیانوس میں سکیورٹی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے سایے میں ہو رہی ہے۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق دھمکیوں کے بعد آئس لینڈ میں امریکہ اور یورپ کے ساتھ اپنے سکورٹی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھے ہیں۔تقریبا 2 لاکھ 70 ہزار اہل ووٹرز ایک ہی سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ کیا آئس لینڈ کو یورپی یونین میں شمولیت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنی چاہیے؟ مثبت ووٹ کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ملک فوری طور پر اس بلاک میں شامل ہو جائے گا بلکہ یہ یورپی کمیشن کے ساتھ نئی بات چیت کا راستہ کھولے گا۔ یورونیوز کے مطابق شمولیت کا حتمی فیصلہ ایک اور ریفرنڈم اور یورپی یونین کے ملکوں کی منظوری کا طالب ہوگا۔حالیہ رائے عامہ کے جائزے حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں دھڑوں کے درمیان سخت مقابلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس ہفتے گیلپ ادارے کے ایک سروے میں بات چیت کی بحالی کے مخالفین کو 51.6 فیصد کے ساتھ آگے دکھائے گئے۔ حامی 48.4 فیصد رہے۔ ماسکینا ادارے کے ایک سابقہ سروے میں حامیوں کو معمولی برتری حاصل تھی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آئس لینڈ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ نے آخری لمحے تک سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی ہے۔ایجنسی کے مطابق ووٹنگ کے دن سے پہلے ہی ابتدائی ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔ آئس لینڈ کے براڈکاسٹنگ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ریکیاوک کے کچھ حلقوں میں دوپہر کے وقت ووٹروں کی آمد کی شرح 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے اسی وقت کے مقابلے میں زیادہ تھی۔