سینتالیس برس بعد امریکہ نے شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا

امریکہ[انٹرنیشنل ڈیسک ]امریکہ نے تقریباً 47 برس بعد شام کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شام میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور عالمی معیشت میں اس کی دوبارہ شمولیت کی راہ میں حائل آخری بڑی رکاوٹ بھی دور ہو گئی ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ شامی حکومت کی جانب سے خود کو بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں سے مکمل طور پر الگ کرنے کے لیے کیے گئے مثبت اقدامات کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شام کے نئے صدر احمد الشرع کے ساتھ روابط کو فروغ دے رہی ہے۔احمد الشرع ماضی میں ایک عسکریت پسند رہنما رہے ہیں اور ابو محمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ وہ ایک زمانے میں القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کی قیادت کرتے تھے جس کے باعث امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور ان کی گرفتاری پر انعام مقرر تھا۔احمد الشرع کی تنظیم ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کو بھی امریکہ نے اپنی عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔یہ تنظیم 2016 تک شام میں القاعدہ کی شاخ سمجھی جاتی تھی۔ تاہم احمد الشرع نے اسی سال القاعدہ سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔2024 کے اواخر میں ہیئت تحریر الشام نے باغیوں کی اُس کارروائی کی قیادت کی تھی جس کے نتیجے میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔مارکو روبیو کا کہنا ہے اس فیصلے سے شامی عوام کو ’خوشحالی کی جانب ایک راستہ‘ ملے گا۔امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں شام میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئے گی اور سیاسی و اقتصادی استحکام کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اس اعلان کو ’ایک تاریخی قدم‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی حکومت شفافیت، باہمی مفادات اور احترام پر مبنی ماحول کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *