ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے جا رہے، ضرورت پڑی تو مسلح کارروائیاں کی جائیں گی: امریکی وزیرِ دفاع

امریکہ[انٹرنیشنل ڈیسک]امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حملے بند نہیں کیے جا رہے اور ضرورت پڑی تو مسلح کارروائیاں کی جائیں گی۔سوموار کے روز امریکی ریاست وسکونسن میں اوشکوش کارپوریشن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران معاشی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا اور اس کی معیشت زوال کا شکار ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے اور اس راستے سے تیل کی ترسیل بھی شروع ہو گئی ہے۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے پاس اب بھی کچھ صلاحیتیں موجود ہیں لیکن وہ ان کی سابقہ صلاحیتوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ان کے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور جوہری پروگرام کے بارے میں بات کریں، جیسا کہ صدر نے مطالبہ کیا ہے۔ایک صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران معاشی پابندیاں عائد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ایران پر حملے نہیں کیے جائیں گے۔اس پر پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گا۔امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران اتنا نادان ہوا کہ حد سے آگے بڑھ جائے یا امریکی فوج کے ساتھ الجھنے کی کوشش کرے، تو ہم وہی کریں گے جو ہمیں ضروری لگا۔’تاہم ہم جانتے ہیں کہ اس وقت معاشی دباؤ انھیں سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم آبنائے ہرمز میں یا ایران کے آس پاس فوجی حملے کرنے کا آپشن ترک کر چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *