بلوچستان کی قومی شاہراہیں قتل گاہیں اور لوٹ مار کے اڈے بن چکی ہیں،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، مفتی رضا خان، حاجی ظفراللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعداللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی قومی شاہراہیں قتل گاہیں اور لوٹ مار کے اڈے بن چکی ہیں۔ آئے روز مسافروں کو لوٹنے گاڑیاں چھیننے اور مزاحمت پر فائرنگ کرکے شہریوں کو شہید کرنے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کے خوف اور ڈاکو راج کے باعث صوبے کی اہم قومی شاہراہوں پر سفر کرنا عوام کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں۔ عوام حکومتی و سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی سے انتہائی مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ڈکیتی اور مسلح جرائم کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث بلوچستان کی اہم قومی شاہراہوں پر سفر کرنا شہریوں کے لیے انتہائی خطرناک بن چکا ہے۔ مسافر اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ قومی شاہراہیں کسی بھی ملک کے معاشی و معاشرتی نظام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں مگر بلوچستان میں ان شاہراہوں پر شہریوں کو تحفظ فراہم نہ کیا جانا حکومتی ذمہ داریوں سے سنگین غفلت کے مترادف ہے۔ حکومت فوری طور پر شاہراہوں کی سیکیورٹی مؤثر بنانے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے اور مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *