Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران کے ساتھ تقریبا چھ ماہ جاری رہنے والی جنگ نے مشرق وسطی میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری واضح کردی ہے۔اخبار کے مطابق امریکا گزشتہ تقریبا چار دہائیوں سے خلیجی ممالک میں پھیلے بڑے فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے مشرق وسطی میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے تاہم حالیہ جنگ کے دوران ایران نے امریکی تنصیبات کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں نے یہ حقیقت نمایاں کردی کہ ایرانی ساحلوں کے قریب موجود بڑے امریکی اڈے جدید میزائل اور ڈرون خطرات کے مقابلے میں کس حد تک غیر محفوظ ہیں۔ایرانی حملوں کے دباﺅ کے باعث امریکا نے اپنی کچھ افواج اور جنگی طیاروں کو اسرائیل، اردن اور دیگر نسبتا محفوظ اور دور دراز مقامات پر منتقل کیا جبکہ بعض امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپ میں موجود فوجی اڈوں سے بھی کارروائیاں کیں۔اب واشنگٹن کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا خطے میں متاثرہ فوجی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں یا بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کے مطابق مشرق وسطی میں امریکی فوجی موجودگی کے پورے ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔واشنگٹن کے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے اپریل میں اندازہ لگایا تھا کہ مشرق وسطی کے 7 ممالک میں موجود 11 امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت پر تقریبا 5 ارب ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔تاہم پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جنگ کی مجموعی لاگت کے تخمینے میں ان اڈوں کی تعمیر نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے باوجود ایران بھی اپنی فوجی صلاحیتوں کو اسی حساب سے ڈھالنے کی کوشش کرے گا۔اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق ایران مستقبل میں ایسے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے جو اردن اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی و اتحادی اہداف تک پہنچ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی فوجی تیاری کا رخ تبدیل کرے گا تاہم امریکی اور اتحادی اہداف کو نشانہ بنانے کی کوششیں جاری رہنے کا امکان ہے۔امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم تیل کے بدلے سکیورٹی کا انتظام بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے۔موجودہ صورتحال میں بعض خلیجی ممالک اپنی سلامتی کے لیے امریکا کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی طاقتوں سے بھی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایران کے ساتھ جنگ نے خطے کے امریکی اتحادیوں کے سامنے بھی ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ بحران کی صورت میں واشنگٹن کی جانب سے ان کے دفاع کا عزم آخر کس حد تک قابلِ اعتماد ہے۔