جمعیت علماء اسلام اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پارلیمان کے اندر جدوجہد اور مؤثر اپوزیشن کے کردار پر اتفاق ، خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت ہے،جمعیت کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام صوبہ بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان پارلیمان کے اندر مشترکہ جدوجہد اور مؤثر اپوزیشن کے کردار پر اتفاق ایک مثبت، خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک اس وقت شدید آئینی، سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کی زد میں ہے، ایسے حالات میں پارلیمانی قوتوں کا باہمی رابطہ اور مشترکہ حکمتِ عملی جمہوری نظام کے استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں آئینی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی روایات کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے، سیاسی مسائل کو مکالمے، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کے بجائے طاقت، دباؤ اور انتظامی جبر کے ذریعے حل کرنے کی روش نے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ان سیاسی قوتوں کا متحد ہونا ضروری ہے جنہوں نے طویل عرصے تک پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کیا، جمہوری جدوجہد کے نشیب و فراز دیکھے اور آئین و قانون کی بالادستی کو اپنی سیاسی جدوجہد کا بنیادی اصول سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات، بے روزگاری، بدامنی اور انتظامی بحرانوں نے شدید متاثر کر رکھا ہے، اس کے باوجود نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ اس انداز میں اٹھانا کہ جس سے موجودہ صوبوں کے تاریخی، قومی اور جغرافیائی تشخص پر سوالات اٹھیں، کسی صورت قابلِ قبول نہیں؛ ایسے حساس معاملات کو سیاسی انجینئرنگ، وقتی مفادات یا غیر سنجیدہ تجربات کے بجائے آئینی تقاضوں، عوامی رائے اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہی زیرِ بحث لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی، محرومی، معاشی مشکلات اور سیاسی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صوبوں کے عوام پر مزید تجربات مسلط کرنے کے بجائے ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے، ان کے آئینی و جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان کے ساتھ طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے اور اعتماد سازی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ عوام کو مسلسل نظرانداز کرنا، ان کی سیاسی آواز کو دبانا، طاقت کا استعمال کرنا اور انسانی جانوں کے ضیاع پر خاموش تماشائی بنے رہنا کسی بھی طور ریاستی دانش مندی نہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کا باعث ہے، اور وفاق و صوبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج بالآخر قومی یکجہتی اور ملکی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو مزید بے یقینی، بدامنی اور سیاسی انتشار کے حوالے نہیں کیا جاسکتا؛ اب وقت آگیا ہے کہ تمام جمہوری و سیاسی قوتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر آئین کی بالادستی، پارلیمان کے وقار، صوبائی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ جمعیت علماء اسلام اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمان کے اندر مشترکہ اپوزیشن کے طور پر ایک ذمہ دار، مؤثر اور اصولی کردار ادا کرتی رہیں گی، جبکہ موجودہ سیاسی و قومی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے کر باہمی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل مرحلہ وار ترتیب دیا جائے گا۔ ملک کو تصادم، جبر اور غیر آئینی طرزِ حکمرانی کے بجائے آئین، قانون، پارلیمان، سیاسی مکالمے اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا سکتا ہے، اور یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *