Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اسپنرز نشرہ سندھو اور طوبی حسن نے کہا ہے کہ ویمن ایشیا کپ اور ایشین گیمز کے لیے ٹیم سے اچھی کارکردگی کی امید رکھنی چاہیے، تیاری اچھی جا رہی ہے، کارکردگی میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے، بھارت کے خلاف میچ کا دباؤ ہوتا ہے، ہر حریف ٹیم کو ذہن میں رکھ کر تیاری کی جاتی ہے۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی اسپنر نشرہ سندھو نے ٹریننگ کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے آئندہ میچز کے لیے مخالف ٹیموں کے مطابق تیاری کی ہے اور کیمپ میں کھیل کے ہر شعبے کو بہتر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے، یو اے ای کی کنڈیشنز میں پاکستان کی اسپنرز اہم کردار ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیم اچھا کھیل پیش کرنے کے باوجود بعض مواقع پر میچ ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی، تاہم کوشش ہے کہ جن شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے، وہاں تسلسل برقرار رکھا جائے۔اپنی بولنگ کے حوالے سے نشرہ سندھو نے کہا کہ وہ ہر میچ میں ایک ہی پلان کے ساتھ نہیں جاتیں بلکہ حریف اور میچ کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کرتی ہیں۔بھارت کے خلاف میچز کے بارے میں خاتون اسپنر نے کہا کہ ان مقابلوں کے لیے اچھی تیاری کی جاتی ہے کیونکہ ان میں پریشر کی صورتِ حال ہوتی ہے، بھارت کے خلاف میچ کے دن جو ٹیم پریشر کو بہتر انداز میں ہینڈل کرتی ہے وہی کامیابی حاصل کرتی ہے۔پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی لیگ اسپنر طوبی حسن نے کہا کہ دبئی کی کنڈیشنز سے پاکستانی کھلاڑی واقف ہیں، اس لیے ٹورنامنٹ سے قبل کنڈیشنز کے مطابق ٹریننگ کرنا انتہائی اہم ہے۔طوبی حسن نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جتنی غلطیاں کم کی جائیں اتنا ہی ٹیم کو فائدہ ہوتا ہے اور کیمپ میں اسی چیز پر کام کیا جا رہا ہے، کھلاڑیوں کو کنڈیشنز اور پریشر کی صورتِ حال کے مطابق ٹریننگ کروائی جا رہی ہے۔لیگ اسپنر نے کہا کہ وہاب ریاض کھلاڑیوں کو مختلف چیلنجز دے کر پریکٹس کرواتے ہیں تاکہ میچ کی صورتِ حال میں بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹاپ ٹیموں کے خلاف کارکردگی کے باوجود ایک ذہنی رکاوٹ موجود ہے جسے ٹیم توڑنے کی کوشش کر رہی ہے، پاکستان نے ماضی میں ٹاپ ٹیموں کے خلاف کافی اچھا مقابلہ کیا ہے، تاہم ٹاپ فور ٹیموں کے ساتھ زیادہ دوطرفہ سیریز ہونی چاہیے تاکہ پاکستانی ٹیم مزید بہتری لا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ دی ہنڈرڈ کھیلنے کے بعد فاطمہ ثنا نے وہاں کے تجربات ٹیم کے ساتھ شیئر کیے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستانی ٹیم اپنے اور ٹاپ ٹیموں کے مائنڈ سیٹ کے فرق کو کم کرنے میں کامیاب ہوگی اور مزید پاکستانی کھلاڑی بھی بین الاقوامی سطح پر آگے آئیں گی۔