Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
سرینگر(کشمیر ڈیسک)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ علاقے کی سنگین صورتحال عالمی برادری کی فوری مداخلت کی متقاضی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیری نوجوانوں اور کارکنوں کو پولیس تھانوں اور بھارتی تحقیقاتی اداروں کے مراکز پر طلب کیا جا رہا ہے اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کی آڑ میں انہیں بلاوجہ گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بی جے پی حکومت کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے بے دریغ استعمال سے سیاسی انصاف کے کشمیریوں کے مطالبے کو کمزور کرنا بھارت کی ہندوتوا حکومت کے مذموم عزائم کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین کا استعمال کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلافِ رائے کی ہر آواز کو دبانے کی سازشیں کر رہی ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے کشمیری عوام کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں، جن میں اظہارِ رائے کا حق، آزادی صحافت اور سیاسی، سماجی، کاروباری اور مذہبی سرگرمیوں کی آزادی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیش آنے والے واقعات سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیر کے حوالے سے سامراجی رویہ ترک کرنا ہوگا اور بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کو تسلیم اور تنازعہ کشمیر کو حل کرنا ہوگا۔بیان میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔