بھارت کی نوآبادیاتی پالیسیاں جموں و کشمیر کی شناخت کے لیے خطرہ ہیں، شناخت اور سیاسی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہیں

سرینگر(کشمیر ڈیسک)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی نو آبادیاتی پالیسیاں علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص، شناخت اور سیاسی حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگست 2019 میں نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت یکطرفہ طور پر ختم کیے جانے کے بعد مودی حکومت نے علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جانے سے مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی توازن میں بنیادی تبدیلی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ترجمان نے کہاکہ ڈومیسائل پالیسی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آباد کرنے اورنوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے ب ڑھانے کے لئے ایک ہتھیارکے طورپر استعمال کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ان اہم مقاصد میں شامل ہے جن کے تحت دفعہ 370 ختم کیا گیا، کیونکہ بھارت کشمیریوں کی منفرد شناخت کو کمزور اور ان کے سیاسی و علاقائی حقوق کو محدود کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر مقامی افراد کی آبادکاری اور زمین اور شہریت سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کشمیریوں کے اپنی زمین اور وسائل پر اختیار کے لیے خطرہ ہیں اور یہ متنازعہ علاقے کے سیاسی تشخص کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔ حریت کانفرنس نے کہاکہ آبادی کے تناسب میں اس طرح کی تبدیلی جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت سے متصادم اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، جن میں اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے کشمیری عوام کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ترجمان نے تشویش ظاہر کی کہ بھارت کی نو آبادیاتی پالیسیاں بین الاقوامی قانون کے تحت بالخصوص علاقے پر طویل عرصے سے جاری قبضے کے تناظر میں سنگین سوالات پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ان اقدامات کا نوٹس لیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکیں۔ترجمان نے زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کو یکطرفہ آئینی، انتظامی یا آبادیاتی اقدامات کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *