Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
تربت(ویب ڈیسک)گورنمنٹ تاج محمد تاج میموریل انٹر کالج ناصرآباد میں تدریسی عملے، کلاس رومز، بجلی، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باعث طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ 2019 سے زیرِ تعمیر کالج کی نئی عمارت تاحال مکمل نہیں ہوسکی۔ طلبہ کا الزام ہے کہ متعلقہ ٹھیکیدار تعمیراتی کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا اور منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم کے استعمال سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔کالج انتظامیہ اور طلبہ کے مطابق کالج کا پہلا سیشن 3 جولائی 2025 کو شروع ہوا، جس میں 74 طلبہ و طالبات نے داخلہ لیا، جبکہ دوسرے سیشن میں اس وقت تقریباً 34 طالبات اور 36 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ تاہم اتنی بڑی تعداد کے مقابلے میں کالج میں صرف چار اساتذہ دستیاب ہیں، جس کے باعث تدریسی عمل شدید متاثر ہورہا ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ کالج میں مناسب کلاس رومز، کرسیاں، میزیں، دیگر تعلیمی سامان اور بنیادی سہولیات موجود نہیں۔ بجلی کا بھی مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث شدید گرمی میں طلبہ و اساتذہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمانی سیکریٹری برائے انرجی میر اصغر رند سے سولر پلانٹ کی فراہمی کی درخواست کی گئی، جن کی جانب سے سولر پلانٹ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا، تاہم طلبہ اور کالج انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اعلان پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔کالج انتظامیہ کے مطابق ادارے کا سالانہ بجٹ بھی انتہائی کم ہے، جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ناصرآباد اور گردونواح کے بیشتر خاندان معاشی طور پر کمزور ہیں، اس لیے مقامی طلبہ کے لیے سرکاری کالج ہی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ گورنمنٹ انٹر کالج ناصرآباد کی نئی عمارت کا تعمیراتی کام 2019 میں شروع کیا گیا تھا، مگر کئی سال گزرنے کے باوجود عمارت مکمل نہیں ہوسکی۔ طلبہ کے مطابق تعمیراتی کام طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے اور نئی عمارت مکمل نہ ہونے کے باعث انہیں ایک اسکول کے پرائمری سیکشن میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے، جہاں صرف تین کلاس رومز دستیاب ہیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ بوائز اور گرلز کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں تین کلاس رومز انتہائی ناکافی ہیں، جس کے باعث کلاسز کے انعقاد، طلبہ کی بیٹھنے کی جگہ اور تدریسی سرگرمیوں میں مسلسل مشکلات پیش آرہی ہیں۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ نامکمل عمارت کے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور منصوبے کے تعمیراتی اخراجات، جاری شدہ فنڈز اور کام کی تکمیل میں تاخیر کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔طلبہ کے مطابق اگر منصوبے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے تھے تو عمارت آج تک مکمل کیوں نہیں ہوئی؟ متعلقہ ٹھیکیدار نے تعمیراتی کام ادھورا کیوں چھوڑا اور منصوبے کی نگرانی کرنے والے متعلقہ محکمے نے اس معاملے پر اب تک کیا کارروائی کی؟ طلبہ نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ان سوالات کا جواب عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر سرکاری فنڈز کے استعمال میں کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔طلبہ نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر تعلیم، پارلیمانی سیکریٹری برائے انرجی میر اصغر رند، سیکریٹری محکمہ تعلیم، ڈائریکٹر کالجز، کمشنر مکران اور دیگر متعلقہ حکام و منتخب نمائندگان سے اپیل کی ہے کہ ناصرآباد انٹر کالج کی زیرِ تعمیر عمارت کا کام فوری طور پر دوبارہ شروع کروا کر مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، کالج میں اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے اور کرسیاں، میزیں، بجلی، سولر سسٹم اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ ناصرآباد کے نوجوانوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم رکھنا ان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ حکومت فوری نوٹس لے، نامکمل منصوبے کی مالی و انتظامی جانچ پڑتال کرائے اور کالج کو مکمل سہولیات کے ساتھ فعال بنایا جائے تاکہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کو اپنے ہی علاقے میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔