حکومت کوئلہ کانوں کی جدید آلات سے انسپکشن یقینی بنائے،سلطان محمد خان

کوئٹہ(ویب ڈیسک) پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے تھنڈک میں واقع کوئلہ کان کے اندر زہریلی گیس جمع ہونے سے رومی محمد اورمحبت اللہ نامی کان کنوں کی ہلاکت پر دْکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کی۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین عبدالستار، مرکزی سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان،خزانچی عبدالستار جونیئر، ایجو کیشن سیکرٹری عبدالحلیم خان، آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے صوبائی چیئرمین شاہ علی بگٹی سمیت دیگر ٹریڈ یونین نمائندوں آصف شاہ، شاہنواز زہری، حاجی سیف اللہ خان، شاہ وزیر، ولید نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دکی کوئلہ کان میں زہریلی گیس کے باعث دو مائنز ورکرز کی ہلاکت کے واقع کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور کام کے محفوظ حالات کو یقینی بنانے میں ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے جبکہ ہلاک کانکنوں کے لواحیقین کی فوری طور پر مالی مدد کی جائے۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اورآل پاکستان لیبر فیڈریشن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ دکی کے المناک واقعہ نے ایک بار پھر بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو درپیش سنگین خطرات خاص طور پر زہریلی گیسوں، ہوا کی ناکافی آمد و رفت، گیس کی نشاندہی کرنے والے آلات کے فقدان اور ہنگامی بچاو ¿ کے ناکافی انتظامات کو اْجاگر کردیا ہے،پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن بلوچستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مائننگ کے شعبے میں کان کنوں کی مزید ہلاکتوں کو روکنے کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات کریں،جبکہ مائنز مزدوروں کو مناسب حفاظتی نظام، ہوا کی آمد و رفت، گیس کی نگرانی، ذاتی حفاظتی آلات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور تربیت یافتہ ریسکیو سہولیات کے بغیر کان میں کام کرنے کے حوالے سے داخل ہونے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، بلوچستان میں واقع کان کنی کے علاقوں میں کوئلے کی تمام کانوں کا معائنہ کرایا جائے اور غیر محفوظ کانوں کو فوری طور پر بند کیا جائے جب تک وہاں حفاظت کے مطلوبہ معیارات کو مکمل طور پر پورا نہ کر لیا جائے۔پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کی حکومت مائنز میں حفاظت اور صحت سے متعلق آئی ایل او کنونشن(176-C) کی توثیق کرے اور اس پرعملدآمد کو یقینی بنایا جائے، آئی ایل او کنونشن(176-C) کی توثیق اور نفاذ سے کان کنوں کی جان اور صحت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو بھی تقویت ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *