رائز پروگرام کے تحت 4ہزار سے زائد نوجوانوں کو ملک بھر کے معروف تربیتی اداروں سے مختلف شعبوں میں تربیت دی جائے گی،سیکرٹری صنعت و تجارت خالد سرپرہ

کوئٹہ(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن اور چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی رہنمائی میں حکومتِ بلوچستان نوجوانوں کو جدید ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع سے منسلک کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اسی سلسلے میں حکومتِ بلوچستان کے مالی تعاون سے جاری ریزیلینس، انٹیگریشن اینڈ سوشیو اکنامک ایمپاورمنٹ (RISE)رائز پروگرام کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔اسی سلسلے میں سیکریٹری محکمہ صنعت و تجارت، حکومتِ بلوچستان خالد سرپرہ  نے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ڈاکٹر طاہر رشید کے ہمراہ کراچی میں سیلانی آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ اور کوتھم انسٹی ٹیوٹ (Cotham Institute)کا دورہ کیاسیلانی آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ میں  نے خاران، واشک اور پنجگور سے تعلق رکھنے والے 50 نوجوانوں سے ملاقات کی جو رائز پروگرام کے تحت ویب ڈویلپمنٹ کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ بعد ازاں کوتھم انسٹی ٹیوٹ میں معززین نے کچ، گوادر اور پنجگور سے تعلق رکھنے والی طالبات سے ملاقات کی جو پروفیشنل بیکنگ، کُلنری آرٹس اور کُکنگ کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے تربیتی عمل، سہولیات اور طالبات کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان کے تجربات بھی سنے۔سیکریٹری صنعت و تجارت نے نوجوانوں کے جذبے، محنت اور تربیت میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے انہیں اپنی تربیت پوری لگن اور عزم کے ساتھ مکمل کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ جدید فنی اور ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کے لیے روزگار، فری لانسنگ اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں، جبکہ خواتین کے لیے ہنر مندی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔رائز پروگرام وزیراعلیٰ بلوچستان کے اس وژن کی عملی شکل ہے جس کے تحت صوبے کے نوجوانوں کو ہنر، روزگار اور معاشی خودمختاری کے مواقع فراہم کرنا ترجیح ہے۔ چیف سیکریٹری بلوچستان کی رہنمائی میں معروف اور مستند تربیتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں کو جدید اور مارکیٹ بیسڈ مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔رائز پروگرام کے تحت 4ہزار سے زائد نوجوانوں کو ملک بھر کے معروف تربیتی اداروں سے مختلف شعبوں میں تربیت دی جائے گی جن میں ڈیجیٹل اسکلز، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، گرافک ڈیزائننگ، کُلنری، بیکنگ، سولر اور دیگر فنی و پیشہ ورانہ مہارتیں شامل ہیں پروگرام کا مقصد صرف تربیت فراہم کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا بھی ہے تربیت مکمل کرنے والے اہل نوجوانوں کو کاروباری گرانٹس فراہم کی جائیں گے، جبکہ انہیں اخوت سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ وہ چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رائز پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مہارت سے روزگار، روزگار سے کاروبار اور کاروبار سے پائیدار معاشی خودمختاری کی جانب لے جایا جائے گا، تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ بلوچستان کی معاشی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *