8 اگست کے شہداء ملک میں آئین و قانون کے پاس داری میں اس دہشتگردی کا شکار بنے،عبدالرحیم زیارت وال

کوئٹہ (ویب ڈیسک) پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع کوئٹہ کے زیرِ اہتمام سرکاری و پرائیویٹ لا کالجز یونٹس کی جانب سے شہداء 8 اگست 2016 کی یاد میں انکی برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس بعنوان ” سیمینار بیاد شہداء 8 اگست 2016 اور ملک میں آئین کی بحالی” پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کوئٹہ کے ضلعی سیکرٹری یار محمد بریال کے زیرِ صدارت منعقد کیا گیا۔تعزیتی ریفرنس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اکابرین، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی عہدہ داروں، تنظیم کے مختلف تعلیمی اداروں کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت انصاف لائرز فورم، پشتونخوا لائرز فورم اور پشتونخوا ڈاکٹر فورم کے معزز نمائندوں اور کارکنوں نے بڑے تعداد میں شرکت کی۔تعزیتی ریفرنس کے پہلے سیشن میں سانحہ کوئٹہ شہداء 8 اگست 2016 کی جدوجہد، قربانیوں اور دردناک سانحے کے حوالے سے ڈاکومنٹری دکھایا گیا، جس میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور سیمینار کے شرکاء نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔تقریب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی آرگنائزر سیف اللہ خان کاکڑ، پشتونخوا لائرز فورم کے مرکزی آرگنائزر حبیب اللہ ناصر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری حضرت عمر خان اچکزئی، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی زونل آرگنائزر وارث افغان، ضلع کوئٹہ سیکرٹری یار محمد بریال، پشتونخوا لائرز فورم کے صوبائی صدر حسن یار ایڈووکیٹ، انصاف لائرز فورم کے صوبائی جنرل سیکرٹری حاکم زرین ایڈووکیٹ، پشتونخوا لائرز فورم کے جبار خان ایڈووکیٹ، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل ڈپٹی آرگنائزر و ضلعی اطلاعات سیکرٹری حفیظ اللہ یاد، یونیورسٹی لاء کالج کے سیکرٹری منصور خان اور سٹی لا کالج کے سیکرٹری حکمت خان نے خطاب کیا، جبکہ اسٹیج اور نظامت کے فرائض پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل ڈپٹی آرگنائزر احسان اچکزئی اور ضلع ڈپٹی سیکرٹری صفیع اللہ لونی نے انجام دیے۔نیز سیمنار میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی اطلاعات آرگنائزر اسفندیار خان کاکڑ، مرکزی مالیات آرگنائزر محمود اچکزئی، مرکزی آفس آرگنائزر نوازخپلواک، زونل سینئر ڈپٹی آرگنائزر مزمل شاہ وطن یار اور زونل ایگزیکٹیو کے دیگر ارکین پشتونخوا ڈاکٹرز فورم کے ڈاکٹر نور علی و دیگر عہدہ داران نے شرکت کی۔ مقررین نے شرکاء سے 8 اگست 2016 کے شہداء کی قربانیوں، آئین و قانون کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، پاکستان میں آئینی و جمہوری نظام کی بحالی اور تعلیمی نظام کے بہتری کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شروع دن سے اس ملک میں آئین بحال ہونے نہیں دیا گیا۔ اس ملک کے معزز ججوں، وکلاء اور سیاسی اکابرن کو آئین کے دفاع میں جیلیں کاٹنی پڑی اور یہاں تک کہ شہادتیں دینی پڑی۔ مزید مقررین نے دعوے کیا کہ 8 اگست کے شہداء ملک میں آئین و قانون کے پاس داری میں اس دہشتگردی کا شکار بنے۔ اس ملک میں شروع دن سے آئین و قانون کی پاسداری کرنے کے برگ نتائج نکلے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ملک اسی سال گزرنے کے بعد بھی ایک جمہوری ملک نہ بن سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا آئین آج بھی متعدد حملوں کا شکار ہے۔ اس ملک کے آئین پر مسلسل حملے ہوتے آرہے ہیں جس کا نتیجہ آج 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم ہیں جس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو چھیڑا گیا ہے اور آئین و جمہوریت کو مزید کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے پر کاٹے گئے ہیں۔ مقررین نگ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس آئین کے متعدد آرٹیکلز اس ملک کے شہروں مفت اور جدید تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست کو دیتی ہے۔ یہاں ہر شہری کو اسکی مادری شبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق دیتا ہے مگر اس پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مخلوط حکومت میں خان شہید ایجوکیشنل کمپلیکس کے نام سے تعلیمی ادارے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور آج اس کو دیگر سرکاری و پرائیویٹ اداروں کو دینے کی باتیں ہورہی ہے جس کا پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نہ صرف مذمت کرتی ہیں اور ایسے فیصلوں کو کسی صورت قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کی پامالی، قانونی ریٹ کے نہ ہونے، ملک میں بد امنی، زمینوں کے الاٹمنٹ وغیرہ کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چئیرمن اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ نے ایک قومی جرگے کا اعلان کیا ہے جو 30، 31 اگست اور 1 ستمبر کو کوئٹہ شہر میں منعقد ہوگا، ایسے جرگے ہی اس خطے میں امن کو برقرار رکھنگ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *