بلوچستان حکومت شہید کانکنوں کی فیملی کیلئے امدادی رقم میں اضافہ کرے،سلطان خان

کوئٹہ(ویب ڈیسک)پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن نے بلوچستان حکومت سے مائننگ کے شعبے سے ٹھیکیداری نظام ختم کرنے،کان کنوں کی صحت و سلامتی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد، جدید حفاظتی آلات کی فراہمی اور محفوظ کان کنی کیلئے موثر اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مائننگ کے شعبے میں حادثات کے نتیجے میں شہید ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کیلئے بلوچستان حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ روپے فی کس امداد کو ناکافی قرار دیکر مائن ورکرز کے لواحقین کیلئے معاوضے کی رقم میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے،متاثرہ خاندانوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں، مائنز میں حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، مائنز کا باقاعدگی سے معائنہ یقینی بنایا جائے، حفاظتی آلات اور تربیت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور حادثات کی روک تھام کیلئے موثر نگرانی کا نظام قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن اور آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے ایک وفد نے سلطان محمد خان کی قیادت میں صوبائی وزیر خزانہ ومعدنیات میر شعیب نوشیروانی سے ملاقات کی، اس موقع پر چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف ہزارہ بھی موجود تھے۔وفد میں عبدالستار، آصف شاہ، عجب خان، شاہنواز زہری، محمد اسد اور احمر خان سمیت دیگر ٹریڈ یونین نمائندے شامل تھے۔ ملاقات کے دوران بلوچستان کی مائنز میں پیش آنے والے حالیہ اور گزشتہ حادثات، کان کنوں کی صحت و سلامتی، حفاظتی اقدامات، مائنز حادثات کے حوالے سے موجودہ قوانین، شہید کان کنوں کے لواحقین کو دی جانے والی حکومتی امداد اور معاوضے کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹریڈ یونین نمائندوں کے وفد نے حکومتی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ بلوچستان میں کان کن مسلسل خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں اور مائنز حادثات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ٹریڈ یونین نمائندوں کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ معدنیات کے شعبے سے وابستہ مزدور ملکی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لہٰذا ان کی جان و مال کا تحفظ حکومت، مائنز مالکان اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حادثات کے بعد صرف امداد دینا کافی نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات ضروری ہیں جن سے مستقبل میں مائنز حادثات کا سدباب کیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *