Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(ویب ڈیسک) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ ملک میں چینی کی پیداوار، برآمد، درآمد اور قیمتوں کا معاملہ ایک بار پھر حکومت، شوگر ملز اور شوگر مافیا کے درمیان سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ شوگر برآمد کنندگان نے حکومت سے 12 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس میں فوری طور پر 6 لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن جبکہ باقی 5 لاکھ 64 ہزار میٹرک ٹن چینی کرشنگ سیزن 2026-27شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر برآمد کرنے کی اجازت شامل ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بظاہر سرپلس چینی کی برآمد ایک معمول کی تجارتی سرگرمی دکھائی دیتی ہے، لیکن ماضی کے تجربات کے پیش نظر اس معاملے کو محض برآمدی اجازت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واقعی ملک میں 12 لاکھ میٹرک ٹن چینی ضرورت سے زائد موجود ہے تو سوال یہ ہے کہ اس سرپلس کی درست مقدار، آئندہ ملکی ضرورت اور صارفین کے لیے مناسب قیمت کا تعین کون کرے گا؟سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ شوگر سیکٹر میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آتا رہا ہے پہلے حکومت پر سرپلس چینی برآمد کرنے کے لیے دباؤ، پھر ملکی مارکیٹ میں قلت، قلت کے باعث قیمتوں میں اضافہ، اور اس کے بعد اسی قلت کو بنیاد بنا کر چینی درآمد کرنے کی اجازت کا مطالبہ۔ پہلے برآمد، پھر قلت، پھر مہنگی فروخت اور آخر میں درآمد—یہ کاروباری سرگرمی نہیں بلکہ عوام اور قومی خزانے پر بوجھ ڈالنے والا ایک خطرناک چکر ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو شوگر ملز یا کسی بھی مفاد رکھنے والے فریق کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے ملک میں موجود چینی کے حقیقی ذخائر، صوبائی ضروریات، ماہانہ کھپت، رمضان اور دیگر موسمی طلب، آئندہ کرشنگ سے متوقع پیداوار اور ممکنہ برآمد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا آزادانہ اور جامع جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر 12 لاکھ میٹرک ٹن واقعی ضرورت سے زائد ہے تو شفاف اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار کی بنیاد پر برآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے، لیکن اسے ملکی صارفین کے لیے وافر ذخیرے، مناسب قیمت، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور لازمی اسٹریٹجک اسٹاک برقرار رکھنے کی واضح شرائط سے مشروط کیا جانا چاہیے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ حکومت کو چینی کے لیے مستقل، شفاف اور قابلِ پیش گوئی برآمدی و درآمدی پالیسی وضع کرنا ہوگی۔ اگر مخصوص بااثر گروہ کبھی سرپلس کے نام پر برآمد اور کبھی قلت کے نام پر درآمد کی منظوری حاصل کرتے رہیں تو ریاستی پالیسی کی شفافیت اور حکومتی نگرانی پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے غیر معمولی منافع کمانے، ذخیرہ اندوزی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار عناصر کا تعین مسابقتی کمیشن، متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور آزاد آڈٹ کے ذریعے کیا جائے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ حکومت کی رٹ اسی وقت مضبوط ہوگی جب پالیسی سازی چند بااثر کاروباری گروہوں کے دباؤ کے بجائے شفاف اعداد و شمار، آزادانہ تجزیے اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہو۔ معاملہ صرف 12 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا نہیں بلکہ ریاستی نگرانی، مارکیٹ کی شفافیت اور عوام کے حقِ خرید کا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت برآمد کی اجازت دینے سے پہلے یہ ضمانت حاصل کرے کہ ملکی صارفین کے لیے وافر ذخیرہ اور مناسب قیمت برقرار رہے۔ بصورتِ دیگر آج کا ”سرپلس“ کل کی ”قلت“ بنتا رہے گا اور اس قلت کا سب سے بھاری بل وہی عام پاکستانی ادا کرے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ چینی چند طاقتور حلقوں کے منافع کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ عوام کی بنیادی غذائی ضرورت ہے۔ حکومت کو برآمدی مافیا کے مفادات کے بجائے عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے شوگر سیکٹر میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی یقینی بنانا ہوگی۔