Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

امریکہ [ویب ڈیسک ]امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ تباہ کن کارروائی سے پہلے ایک آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔ٹرمپ سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے دفتر اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا اور دوسرے مرحلے میں جوہری معاملے پر بات چیت کی جائے گی، ’اس بارے میں ہمارا مؤقف بہت واضح ہے: انھیں (ایران کو) جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ٹرمپ نے کہا کہ گذشتہ رات انھوں نے ایران پر حملے کا فیصلہ کر لیا تھا اور وہ ’دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی حملے سے زیادہ سخت‘ ہوتا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے ارادوں کا علم ہونے پر ایران نے خود فون کر کے کہا کہ ’براہِ کرم حملہ نہ کریں، ہم ایک معاہدہ کر لیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ حملے کے لیے پوری طرح تیار تھے کہ اسی دوران ’ان (ایران) کی کال آئی۔صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر کئی ممالک نے بھی رابطے کیے۔ ’ایران نہیں چاہتا تھا کہ اسے نشانہ بنایا جائے اور کہا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔امریکی صدر کے مطابق ایران نے ان سے کہا کہ ’ہم آبنائے (ہرمز) کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے نقطۂ نظر سے آبنائے ہرمز کھلنے سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت کے خاتمے پر بات کی جائے۔صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات ہو بھی رہے ہوں تو بھی وہ ان کی تردید کرتا رہتا ہے۔امریکی صدر کے مطابق: ’ہم اس وقت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ بات چیت ایران کی درخواست پر ہو رہی ہے، جس کی حمایت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک کر رہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تباہ کن کارروائی سے پہلے وہ ایران کو ایک آخری موقع دینا چاہتے ہیں، ’امید ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران ’کے لیے کسی اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا یہ آخری موقع ہے