Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
aکوئٹہ (این این آئی)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ 8 اگست 2016 بلوچستان کی تاریخ کا وہ المناک دن ہے جب دہشت گردی کے ایک ہولناک واقعے میں صوبے کی قانونی برادری سمیت صحافت اور سول سوسائٹی سے وابستہ درجنوں افراد کو شہید کردیا گیااس سانحے نے بلوچستان کے عدالتی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایاشہدائے 8 اگست کو حقیقی خراج عقیدت یہی ہے کہ ان کے قاتلوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں قانون، آئین، جمہوریت اور مکالمے کی بالادستی قائم کی جائے۔ایک بیان میں میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ 8 اگست محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں بلکہ بلوچستان کے اجتماعی حافظے میں ایک گہرے زخم کی حیثیت رکھتا ہیاس روز کوئٹہ سول ہسپتال میں ہونے والا خودکش حملہ وکلا اور دیگر شہریوں پر حملہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ قانون، انصاف، آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کو نشانہ بنانے کی ایک سنگین کوشش تھی۔ایک ہی سانحے میں بلوچستان کی قانونی برادری کو جو نقصان پہنچااس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکلا صرف عدالتوں میں مقدمات لڑنے والے افراد نہیں بلکہ معاشرے میں آئین، قانون اور شہری حقوق کے محافظ بھی ہوتے ہیں۔ 8 اگست کو ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو اپنے پیشے کے ذریعے عوام کو انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے لیے کردار ادا کررہے تھے۔ اسی طرح صحافیوں کی شہادت نے آزادی صحافت کے لیے بھی ایک بڑا خلا پیدا کیا۔انہوں نے کہا کہ شہدائے 8 اگست کو یاد کرنے کا مقصد صرف ہر سال تقریبات منعقد کرنا، پھول چڑھانا اور تعزیتی بیانات جاری کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریاست اور حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسے سانحات کے اسباب کیا تھے تحقیقات کہاں تک پہنچیں، ذمہ دار عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کس حد تک قانون کے مطابق سزا ملی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے تو عوام کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی شہدائے 8 اگست کے نظریے اور جمہوری جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگی۔ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور سیاسی عمل کو مضبوط بنانا ہی ان شہداء کے خون کا حقیقی تقاضا ہے