کوئلہ کان حادثات کی روک تھام کیلئے حکومتی دعوے زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں،آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز

کوئٹہ(ویب ڈیسک)آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے رہنماؤں محمد رمضان اچکزئی، عبدالحئی، محمدرفیق لہڑی، محمد یوسف کاکڑ، عبدالباقی لہڑی، محمد یار علیزئی اورسید آغا محمدنے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعے گزشتہ روز سورینج کے مقام پر کوئلہ کان میں حادثے کی وجہ سے 34 قیمتی جانیں ضائع ہونے کے واقعے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ صوبے کی کوئلہ کانوں میں پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پیشتر بھی کوئلہ کانوں کے حادثات میں ہزاروں کانکن جام شہادت نوش کرچکے ہیں لیکن ان حادثات کی
روک تھام کیلئے حکومتی دعوے زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں مائنز سے تعلق رکھنے والے افسران نے کبھی سنجیدگی سے مزدوروں کی سیفٹی کو اولیت نہیں دی، آج تک ان واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی غفلت کے مرتکب حکومتی عہدیداروں کو ان واقعات میں ملازمتوں سے فارغ کیا گیا کہ معاشرے میں احساس ذمہ داری کو پروان چڑھایاجاسکے۔انھوں نے کہا کہ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق صوبہ بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سالانہ بنیاد پر 100 سے 200 کانکن حادثاتی طور پر اموات کا شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ برائے نام مائن انسپکشن، کانکنوں کی برائے نام پیشہ ورانہ ٹریننگ، حفاظتی آلات کی کمی، بچت کی خاطر کیکر کے بجائے سفیدے کی لکڑیوں کے استعمال سے کان کی چھت اور دیواروں کا گرنا،کان میں آکسیجن کی کمی، میتھین گیس کا کان میں بھر جانا، بہت زیادہ گہرائی میں کام کرنا، کانوں کے اندر ہوا کی آمد و رفت کا نظام نہ ہونا سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں۔فیڈریشن رہنماؤں نے کہا کہ صوبے اور ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے محنت کش طبقے کو بے یارومدد گار چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آئے روز محنت کش حادثات اورٹارگٹ کلنگ میں شہید ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں تربت کے مقام پر 6محنت کشوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس واقعے اس سے پیشتر رونماء ہونے والے واقعات کے بعد آج تک کسی ذمہ دار اعلیٰ افسر کو ملازمت سے برخاست نہیں کیا گیا اسی مبہم اور کرپشن پر مبنی سسٹم کی وجہ سے آئے روز محنت کش اپنی زندگیوں کی بازی ہارجاتے ہیں، جوغریب محنت کش اپنے اہل خانہ کی روزی روٹی کیلئے دن رات محنت کرتے ہیں ان کے اہلخانہ منتظر ہوتے ہیں کہ ان کی کمائی سے وہ گھرکا چولہا جلائیں گے لیکن بد قسمتی سے ان کے گھروں میں جنازے جارہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کانکنوں کی زندگیوں کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود سے متعلق فیڈریشن کی جانب سے پٹیشن نمبر963/2024 عدالت عالیہ بلوچستان میں دائر کی گئی ہے جس پر کارروائی کے دوران معزز عدالت نے سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرل ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کیے کہ کانکنوں کی جان کی حفاظت، ان کی فلاح و بہبود اورکوئلہ کانوں میں رونماء ہونے والے حادثات کے تدارک کی رپورٹ عدالت میں پیش کریں اس کیس پر اگلی سماعت 10اگست2026ء کو مقرر ہے۔فیڈریشن کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کانکنوں کو بہتر اور محفوظ حالات کار فراہم کیے جائیں، غیر محفوظ حالات اور حفاظی آلات کے بغیر حادثے کی صورت میں فوری طور پرایسی کانوں کا لائنس منسوخ کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے جائیں، سوگوار خاندان کو ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جائے، ان کے بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، پسماندگان میں سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے اور کانکنوں کو معقول سیکورٹی فراہم کی جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *