چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کی بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای کچہری

 اسلام ابٓاد (ویب ڈیسک)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پیر کے روز بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای کچہری کا انعقاد کیا۔ بی آئی ایس پی سے جاری بیان کے مطابق ای۔کچہری کے دوران ملک بھر سے 37 کالرز نے ٹیلی فون کے ذریعے اپنے مسائل اور شکایات سے آگاہ کیا۔ چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ ای کچہری کے دوران موصول ہونے والی تمام شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے فوری طور پررپورٹ پیش کی جائے۔ای-کچہری سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کارکردگی، شفاف نظام اور عوامی خدمت پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی ملک کے غریب اور مستحق خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بلاامتیاز خدمات انجام دے رہا ہے اور اس کا مقصد کم آمدن رکھنے والے گھرانوں کی معاشی مشکلات میں کمی لانا اور ان کی آمدن و اخراجات میں توازن پیدا کرنا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں بعض عناصر ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بی آئی ایس پی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کسی بھی سیاسی، مذہبی، لسانی یا علاقائی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف مستحق افراد کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے۔چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے ایک کروڑ سے زائد گھرانوں اور اس قومی ادارے کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو ناقابل برداشت ہے اور اس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بے بنیاد الزامات، جھوٹی معلومات پھیلانا یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی غرض سے پروگرام کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ایک مجرمانہ عمل ہے جس پر بی آئی ایس پی پیکا ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ عالمی بینک کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بی آئی ایس پی سے نہ صرف مستحق خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے بلکہ مقامی دکانداروں، صنعت اور مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انہوں نے بی آئی ایس پی کی نئی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ادائیگیوں میں مستحق خواتین ملک کے کسی بھی شہر میں، کسی بھی پارٹنر بینک کے مجاز ایجنٹ سے اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت رقم حاصل کر سکیں گی۔چیئرپرسن نے مستحق خواتین کو ہدایت کی کہ جن خواتین بینفشریز نے ابھی تک بی آئی ایس پی دفتر سے اپنی بینظیر سم مفت حاصل نہیں کی یا کسی اور جگہ سے سم لے رکھی ہے، وہ لازما اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے بینظیر سم مفت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ سم حاصل کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ اور اپنا ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں اور سم وصول کرتے وقت عملے سے کہیں کہ وہ سم ان کے موبائل فون میں خود نصب کرے۔ انہوں نے کہا کہ رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہونے پر متعلقہ بینک کی جانب سے ایس ایم ایس موصول ہوگا جبکہ رقم نکلوانے کے بعد بھی ایک تصدیقی ایس ایم ایس آئے گا جس میں منتقل اور وصول کی گئی رقم کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہی ایس ایم ایس ادائیگی کا ثبوت ہوگا جس کی مدد سے خواتین تصدیق کر سکیں گی کہ انہیں مکمل رقم موصول ہوئی ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے ہدایت کی کہ اگر کوئی ایجنٹ رقم میں کٹوتی کرے یا پوری رقم ادا نہ کرے تو خواتین موصول شدہ ایس ایم ایس کی بنیاد پر اپنی مکمل رقم کا مطالبہ کریں اور فوری طور پر بی آئی ایس پی کے عملے یا قریبی دفتر میں شکایت درج کرائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کسی بھی صورت اپنا موبائل فون ایجنٹ کے حوالے نہ کریں، کیونکہ رقم وصول کرنے کے لیے صرف اصل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرک تصدیق درکار ہوتی ہے، موبائل فون کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ اپنا موبائل فون اور موبائل نمبر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں تاکہ کوئی شخص ان کے پیغامات یا شکایات سے متعلق معلومات ختم نہ کر سکے۔چیئرپرسن نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی کے تمام وظائف، سہولیات اور خدمات مکمل طور پر مفت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستند معلومات، رہنمائی یا کسی بھی شکایت کے اندراج کے لیے مستحقین اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر یا بی آئی ایس پی ہیلپ لائن 080026477 سے رابطہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *