پیپلز پارٹی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے ،سید نیئر حسین بخاری

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز (پی پی پی پی) کے سیکرٹری جنرل سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اسے تمام سیاسی و دیگر معاملات پر فوقیت دیتی ہے۔ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، پاکستان کی سلامتی ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔پیر کو پیپلز میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ پولیس چوکیوں، تھانوں اور عبادت گاہوں پر حملے اس امر کے متقاضی ہیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور موثر اقدامات کرے۔ نیئر حسین بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع کے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دینے کے بجائے صوبائی حکومت بظاہر بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے زیادہ فکر مند نظر آتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت، وفاقی حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون سے گریزاں کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون قابلِ تحسین ہے۔ دہشت گردی ایک قومی چیلنج ہے اور وفاقی حکومت سمیت تمام صوبوں کو مل کر اس کے خلاف مؤثر حکمت عملی تشکیل دے کر اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز نے کہا کہ عوام ایک طرف دہشت گردی اور دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایسے حالات میں سیاست دانوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ لانگ مارچ میں شریک افراد کے ایجنڈے میں عوامی مسائل کہاں ہیں؟ لانگ مارچ کے ایجنڈے میں مہنگائی، بے روزگاری اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذکر کیوں نہیں؟ سیاسی مسائل طاقت کے ذریعے حل نہیں کیے جاسکتے، ان کا حل مذاکرات اور بات چیت میں ہے۔ تمام سیاسی اور قومی معاملات مذاکرات کی میز پر بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی معاملات کا فیصلہ عدالتوں ہی میں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ اس وقت وفاقی آئینی عدالت کے سامنے زیرِ غور ہے، لہٰذا عدالتی معاملات کو آئینی اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *