پاکستان کی مسلح افواج خصوصاً پاکستان آرمی نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ،حاجی شعیب علی خان لہڑی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے سیاسی اور قبائلی رہنما حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج خصوصاً پاکستان آرمی نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے سرحدوں کی حفاظت، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، قدرتی آفات کے دوران عوام کی امداد اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دی ہیں ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ وطن کا دفاع ان کی اولین ذمہ داری ہے،بعض عناصر پاکستان کو بدنام کرنے اور ملک کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی سازشوں میں ملوث ہیں جنہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملے گا یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا کہ آج پاکستان مخالف قوتوں کی سب سے بڑی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پاکستان کی ساکھ، وقار اور عالمی تشخص کو نقصان پہنچایا جائے مختلف ذرائع، خصوصاً سوشل میڈیا، جھوٹے پروپیگنڈے، گمراہ کن خبروں اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں ان عناصر کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہی نہیں بلکہ قومی اتحاد، یکجہتی اور استحکام کو بھی متاثر کرنا ہے تاکہ ملک اندرونی طور پر کمزور ہو جائے۔انہوں نے کہا کہپاکستان کی مسلح افواج، خصوصاً پاکستان آرمی، نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، قدرتی آفات کے دوران عوام کی امداد اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں پاک فوج نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ وطن کا دفاع ان کی اولین ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سے پندرہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک کے حالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب کسی ریاست کے دفاعی ادارے کمزور ہو جائیں یا ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے تو اس کی خودمختاری شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ عراق، لیبیا اور افغانستان جیسے ممالک نے طویل عرصے تک عدم استحکام، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا کیا ان مثالوں سے یہ سبق حاصل کیا جا سکتا ہے کہ مضبوط ریاستی ادارے، مو ¿ثر حکمرانی، قومی اتحاد اور عوام کا اعتماد کسی بھی ملک کے استحکام کے لیے نہایت اہم عناصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی موجودہ دور میں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ اطلاعاتی، سائبر اور نفسیاتی جنگ جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے ایسے حالات میں ضروری ہے کہ قوم ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا جائزہ لے، غیر مصدقہ خبروں سے گریز کرے اور اختلافِ رائے کو آئین و قانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے قومی مفاد کو مقدم رکھے ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاستی ادارے، حکومت اور عوام مل کر قانون کی حکمرانی، قومی یکجہتی، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *