پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کومزید فروغ دینے کے لئے ہر ممکن کوششوں کا سلسلہ جا ری رکھا جا ئے گا، ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد اتابک

اسلام آ با د /کوئٹہ(این این آئی)پا کستان اور ایران نے دوطرفہ تجا رت کی را ہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کے لئے دوطرفہ اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہو ئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دونوں برا در اسلامی مما لک کے درمیان تجارت کومزید فروغ دینے کے لئے ہر ممکن کوششوں کا سلسلہ جا ری رکھا جا ئے گا، گزشتہ روز وفا قی دارالحکومت اسلام آباد میں فیڈریشن آف پا کستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے ہیڈ آفس میں ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد اتابک، ایران چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، مائنز اینڈ ایگریکلچر، زاہدان چیمبر آف کامرس کے اعلیٰ حکام اور ایرانی تجارتی وفد کے ساتھ صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ ودیگر عہدیداران اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداراننے ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیاجس میں ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر حاجی محمد ایوب مر یا نی نے بھی خصوصی طو ر پر شرکت کی۔اجلاس میں دونوں ہمسائیہ برادر اسلامی مما لک کے تجا رتی تعلقات اور اس سلسلے میں درپیش مسائل و چیلنجز پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں برا در اسلامی مما لک دوطرفہ تجا رت کی را ہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کے لئے اقدامات اٹھا ئیں گے اجلاس کے شرکا ء نے پا کستان اور ایران کے دوطرفہ تجا رت کی را ہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کے لئے دوطرفہ اقدامات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہو ئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دونوں برا در اسلامی مما لک کے درمیان تجارت کومزید فروغ دینے کے لئے ہر ممکن کوششوں کا سلسلہ جا ری رکھا جا ئے گا۔اجلاس کے دوران صدر کوئٹہ چیمبر محمد ایوب خان مریانی نے پاکستان اور ایران کے مابین دوطرفہ اور سرحدی تجارت سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے خصوصا تفتان اور BP-250گبد بارڈر گیٹ ویز پر تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت میں درپیش مشکلات، سرحدی راستوں پر بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے تجارتی ٹرکوں، کسٹمز و امیگریشن سہولیات، بارڈر انفراسٹرکچر کی بہتری اور تجارت کے فروغ کے لیے درکار عملی اقدامات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ، بہتر بارڈر مینجمنٹ اور تجارتی سہولتوں میں اضافہ نہ صرف دوطرفہ تجارت کے حجم میں نمایاں اضافہ کرے گا بلکہ سرحدی علاقوں کی معاشی ترقی اور کاروباری برادری کے اعتماد کو بھی مضبوط بنائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *