Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کراچی (این این آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین زار کے درمیان بین الصوبائی تعاون کے فروغ کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی سے ایک اعلیٰ سطح کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریونیو اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)، موسمیاتی مزاحم گھروں کی تعمیر، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) خالد شیخ شریک ہوئے، جبکہ گلگت بلتستان کی جانب سے وزیراعلیٰ امجد حسین زار، چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت گلگت بلتستان کے ساتھ تین اہم شعبوں، ریونیو اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور موسمیاتی مزاحم گھروں کی تعمیر میں قریبی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گلگت بلتستان میں سندھ ریونیو بورڈ کی طرز پر جدید ریونیو اتھارٹی کے قیام میں مکمل تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت، پن بجلی اور خدمات کے شعبوں میں ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جنہیں جدید ٹیکس نظام، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریونیو انتظامیہ کا مستقبل شفافیت، ڈیجیٹل نظام اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد سے وابستہ ہے، جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس کی ادائیگی کا عمل بھی آسان اور شفاف بنے گا۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کے ریونیو ماڈل میں لازمی ای رجسٹریشن، ای فائلنگ، آن لائن ٹیکس ادائیگی، خودکار ودہولڈنگ سسٹم، کاروباری معلوماتی ٹولز اور پوائنٹ آف سیل انضمام جیسے جدید نظام شامل ہیں۔ سندھ حکومت گلگت بلتستان میں ٹیکس قوانین اور قواعد کی تیاری، آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ترقی، افسران کی تربیت اور پیشہ ور ٹیکس منتظمین کا کیڈر تشکیل دینے میں بھی معاونت فراہم کرے گی۔اجلاس میں چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن نے جدید سروس ٹیکس انتظامیہ، ڈیجیٹل نظام اور محصولات میں اضافے سے متعلق سندھ کے تجربات پر تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ حکومت کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے تاریخی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت نے دنیا کے سب سے بڑے بعد از آفت رہائشی تعمیر نو پروگرام کا آغاز کیا، جس کے تحت منصوبہ بندی کیے گئے 21 لاکھ گھروں میں سے 10 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرہ 196 گھروں کی تعمیر نو کے لیے سندھ حکومت کا تیار کردہ ماڈل بھی پیش کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مجوزہ گھروں کو سیلاب اور زلزلوں سے محفوظ بنانے کے لیے بلند بنیادیں، مضبوط کنکریٹ ڈھانچے اور مؤثر نکاسی آب کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ اس منصوبے کی تخمینہ لاگت 36 کروڑ 6 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ کا تعمیر نو کا تجربہ گلگت بلتستان کے مقامی حالات کے مطابق مؤثر انداز میں اپنایا جا سکتا ہے۔اجلاس میں سندھ حکومت نے دو دہائیوں پر مشتمل پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کا کامیاب تجربہ بھی شیئر کیا۔ بتایا گیا کہ سندھ میں پی پی پی فریم ورک 2008 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی معاونت سے قائم کیا گیا جبکہ 2010 میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ نافذ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وائیبلٹی گیپ فنڈ اور پروجیکٹ ڈویلپمنٹ فسیلٹی نے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ پی پی پی کے ذریعے حکومتیں نجی شعبے کی مہارت، جدت اور سرمایہ کاری سے معیاری بنیادی ڈھانچہ اور عوامی خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پی پی پی پالیسی بورڈ ان کی سربراہی میں منصوبوں کی نگرانی کرتا ہے جبکہ محکمہ خزانہ میں قائم خصوصی پی پی پی یونٹ پروگرام پر عملدرآمد میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ سندھ حکومت نے گلگت بلتستان میں بھی پی پی پی فریم ورک کی تیاری، پالیسی سازی اور منصوبوں کے نفاذ میں تکنیکی تعاون کی پیشکش کی، تاکہ پن بجلی، سیاحت، سڑکوں، ہوٹلنگ اور عوامی خدمات کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین زار نے سندھ حکومت کی جانب سے اپنے تجربات اور مہارت شیئر کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ریونیو اصلاحات، موسمیاتی مزاحم گھروں کی تعمیر اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شعبوں میں سندھ کے کامیاب ماڈلز سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان معاشی ترقی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور سندھ کے تجربات مالی استعداد میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی خدمات کی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے سندھ حکومت کی تکنیکی معاونت کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو باقاعدہ رابطہ کاری اور مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔اجلاس کے اختتام پر سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان ریونیو اصلاحات، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، موسمیاتی مزاحم گھروں کی تعمیر، ڈیجیٹل گورننس اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں مستقل رابطہ کاری کا طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط بین الصوبائی تعاون وفاق کو مزید مستحکم اور ترقی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم، مہارت اور کامیاب ماڈلز کا تبادلہ کرکے بہتر حکمرانی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور عوام کے لیے ترقی و خوشحالی کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔