Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

سوات (ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پیر کے روز سوات کا دورہ کیاجہاں انہوں نے کبل پولیس اسٹیشن میں ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی سیدو شریف اسپتال میں عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی، جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں تمام دستیاب طبی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ملاکنڈ ریجن سید فداحسن شاہ نے انہیں خودکش حملے، امن و امان کی مجموعی صورتحال، سکیورٹی انتظامات اور تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں امن کا قیام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کو کسی صورت دوبارہ سر اٹھانے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے سال 2026ءکو امن کا سال قرار دینے کا اعلان کیا ہے، بدقسمتی سے دہشت گردوں کو چھوڑا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایسے افسوسناک واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ فارم 47سے وجود میں آنے والی وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ جن لوگوں کا کام سیاست کرنا نہیں، وہ بھی سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، جس کے باعث امن و امان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں جو کچھ ہو رہا ہے، اگر بروقت موثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے حالات دیگر علاقوں تک بھی پھیل سکتے ہیں، اس لئے دہشت گردی کے خلاف مزید مثر اور سخت پالیسی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے پولیس فورس کو جدید اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت سے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ ہر چیلنج کا مثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صرف محکمہ انسداد دہشت گردی اور خیبر پختونخوا پولیس کردار ادا کریں گے، کسی اور کو اس عمل میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ سوات سمیت پورے صوبے میں دیرپا امن کو یقینی بنایا جا سکے۔