وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس

پشاور(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی نظام کے نفاذ، ڈیجیٹل لرننگ کے فروغ اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی سہولیات کی رسائی کے لیے مجوزہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہر بچے تک عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات پہنچانے کے لیے نظام تعلیم میں ڈیجیٹل انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے ذریعے سکول سے باہر لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لایا جائے گا جبکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز اور سکولوں سے محروم علاقوں سمیت ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں آئندہ دو برس کے دوران شرح خواندگی میں 30 سے 35 فیصد اضافے کا ہمارا ہدف ہے۔ ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات پر 5 ارب روپے کی ایک مرتبہ سرمایہ کاری محکمہ تعلیم کے بجٹ کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے مگر نتائج کے اعتبار سے انقلابی ثابت ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات گزشتہ 78 برس کے روایتی نظام سے زیادہ موثر ثابت ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔مزہد برآں ، ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات صوبے میں تعلیم کی فراہمی کو زیادہ موثر، آسان اور کم لاگت بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام تعلیم سے بچیوں کی تعلیم میں حائل جغرافیائی اور سماجی رکاوٹوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات کے منصوبوں پر مقررہ اہداف اور ٹائم لائنز کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صوبے کے ہر بچے تک جدید، معیاری اور مساوی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور صوبے میں تعلیم کے شعبے میں ایک پائیدار اور انقلابی تبدیلی لائی جا سکے۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے “پڑھو خیبر پختونخوا” منصوبے کے تحت صوبے کا مکمل نصاب ڈیجیٹلائز کرکے تمام درسی کتب طلبہ کو موبائل فون پر دستیاب کی جائیں گی جبکہ طلبہ انٹرنیٹ کے بغیر بھی کسی بھی وقت اور اپنی سہولت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل تعلیمی اصلاحات پر 5 ارب روپے کی ایک مرتبہ سرمایہ کاری سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہوگی۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے کے90 فیصد گھرانوں میں موجود اسمارٹ فونز کو تعلیم کے فروغ کے لیے موثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے 50 سے زائد سکولوں میں آن لائن تدریس کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ اگست کے آخر تک 500 سکول ورچوئل لرننگ سے منسلک ہو جائیں گے۔ ورچوئل لرننگ نظام میں سائنس کی جدید ورچوئل لیبارٹریز اور عالمی زبانوں کی تدریس بھی شامل کی جائے گی جبکہ چینی، کوریائی، فرانسیسی، عربی، ہسپانوی اور انگریزی زبانوں کی ورچوئل لیبز جلد فعال ہوں گی۔ اسی طرح ورچوئل سکول دو شفٹوں میں فعال ہوں گے اور ایشیائی و یورپی ٹائم زونز کے مطابق کلاسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اردو اور انگریزی کے ساتھ ساتھ پشتو زبان میں بھی ڈیجیٹل تدریس متعارف کرائی جائے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل تعلیمی نظام میں تدریس، امتحانات، اسائنمنٹس، حاضری اور تعلیمی نگرانی ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگی۔ مصنوعی ذہانت اور اساتذہ کی مشترکہ معاونت سے ہر طالب علم کی استعداد اور تعلیمی پیش رفت کے مطابق ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کی جائے گی، جبکہ طلبہ کو لائیو کلاسز، ریکارڈ شدہ لیکچرز، ہوم ورک، امتحانات اور فوری تعلیمی معاونت بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *