نیتن یاہو اور ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات

امریکہ [انٹرنیشنل ڈیسک]اب سے کچھ دیر بعد اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو 40 روز سے جاری جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔یہ ملاقات ایک ایسے حساس مرحلے پر ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ شدید کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم آج وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو واحد مہمان نہیں ہیں۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی ایسے وقت میں ٹرمپ سے ملاقات کی ہے جب بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز پر حملے کے بعد ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے درمیان یہ آٹھویں ملاقات ہو گی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی باتیں سنی جا رہی ہیں۔آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کا مرکزی موضوع ایک بار پھر ایران اور وہ جنگ ہے جو اب تقریباً چھ ماہ کے قریب پہنچ چکی ہے۔اسرائیل حالیہ مرحلے کی جنگ میں شامل نہیں رہا، تاہم گذشتہ چند روز کے دوران اس کی سرحدوں کے قریب ڈرونز کی روک تھام سے متعلق متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔نیتن یاہو نے اسرائیل سے روانگی سے قبل کہا: ’ہم ایجنڈے میں شامل تمام امور، خصوصاً ایران، پر بات کریں گے۔ ہمارا مقصد اپنی سلامتی کا تحفظ اور اپنے گرد امن کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق واشنگٹن پہنچنے کے بعد نیتن یاہو نے پیر کی شام ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر سینیٹر گراہم کی یاد میں منعقدہ نجی عشائیے میں شرکت کی۔وہ آج لنڈزی گراہم کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔یاد رہے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان اور مذاکرات کے آغاز کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *