Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
جیکب آباد(ویب ڈیسک) متنازعہ جیکب آباد سم نالے کے معاملے پر بلوچستان کے سخت تحفظات کے بعد اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے سندھ حکام سے ملاقات کرکے متنازعہ سم نالے کا مشترکہ معائنہ کیا۔ اس موقع پر بلوچستان کے وفد نے ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی کو دوٹوک انداز میں آگاہ کیا کہ مین حیردین ڈرینیج سسٹم جیکب آباد کے اضافی پانی کا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اگر سم نالے کا پانی اس میں شامل کیا گیا تو صحبت پور، جعفرآباد اور استا محمد جیسے اضلاع کو 2010ء کے سپر فلڈ جیسی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر مدثر ظفر کھوسہ نے واضح کیا کہ سندھ حکومت بہتر اور محفوظ حل تلاش کرنے کے لیے بلوچستان سے مشاورت اور باقاعدہ این او سی حاصل کرے تاکہ سرحدی اضلاع کے عوام کے خدشات دور کیے جا سکیں۔ اس پر ڈپٹی کمشنر جیکب آباد شہزاد احمد ساہی نے یقین دہانی کرائی کہ بلوچستان حکومت کی این او سی کے بغیر متنازعہ سم نالے پر کسی قسم کا تعمیراتی کام دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا۔ اجلاس اور معائنے میں ایس ایس پی صحبت پور خلیل احمد ایگزیکٹو انجینئر جیکب آباد معظم علی، اسسٹنٹ کمشنر جعفرآباد دھیرج کالرہ اور سب ڈویژنل آفیسر عابد علی کھوسہ بھی موجود تھے