مکرمہ کی مقدس سرزمین پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور اجتماعی سلامتی کی جانب ایک اہم قدم ہے،حاجی شعیب علی خان لہڑی

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان کے قبائلی وسیاسی رہنما حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت ہے مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور اجتماعی سلامتی کی جانب ایک اہم قدم ہے اس معاہدے کا سب سے اہم پیغام واضح ہے کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ، تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا یہ اصول جارحیت کی حوصلہ شکنی اور خطے میں مؤثر دفاعی بازداریت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں حاجی شعیب علی خان لہڑی نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت اور تجربے کے ساتھ، سعودی عرب اپنی معاشی و اسٹریٹجک اہمیت کے ساتھ اور ترکیہ اپنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صلاحیت کے ساتھ ایک دوسرے کے لیے اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ اپنے ممالک، اپنی خودمختاری اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے دفاعی تعاون کا ایک نیا فریم ورک ہے اس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن قائم کرنا، دفاعی تعاون بڑھانا اور مستقبل کے خطرات کے مقابلے میں مشترکہ تیاری کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ سے اٹھنے والا یہ پیغام جنگ کا نہیں بلکہ امن کے تحفظ کے لیے طاقت، اتحاد اور باہمی اعتماد کا پیغام ہے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یہ تعاون اگر دانشمندانہ سفارت کاری، معاشی شراکت اور دفاعی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ پورے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ سے ایک واضح پیغام ہے کہ امن ہماری ترجیح ہے دفاع ہماری ذمہ داری ہے اور اتحاد ہماری طاقت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *