موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک کی تمام جمہوری و سیاسی قیادت بالعموم پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی سنگین صورتحال پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ کریں ،میرکبیر محمد شہی ،لیاقت بلوچ

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی سے جماعتِ اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے اپنے وفد کے ہمراہ محمد شہی ہاو ¿س میں ملاقات کی۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ، مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، مرکزی ترجمان علی احمد لانگو، مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری میران بلوچ، مرکزی کمیٹی کے رکن چیئرمین محراب بلوچ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔جماعتِ اسلامی کے وفد میں صوبائی نائب امیر زاہد اختر بلوچ،،صوبائی نائب امیر مولانا عارف دمڑ ،رکن صوبائی شوری غلام یاسین بلوچ، ضلعی جنرل سیکرٹری اعجاز محبوب،ایجوکیشن سیکرٹری،طیب فرید سوشل میڈیا سیکرٹری روح اللہ شامل تھے۔ملاقات کے دوران لیاقت بلوچ نے نیشنل پارٹی کی قیادت کو آئندہ ماہ کے آخر یا ستمبر کے اصل میں منعقد ہونے والی قومی کانفرنس برائے بلوچستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور باقاعدہ شرکت کی دعوت دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی نے لیاقت بلوچ اور ان کے وفد کی آمد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک کی تمام جمہوری و سیاسی قیادت بالعموم پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی سنگین صورتحال پر سنجیدہ اور بامقصد مکالمہ کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام منفی پالیسیوں اور غیر جمہوری رویوں کے باعث ریاست سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، بلکہ ان کی حقِ نمائندگی سلب کرکے فارم47کے ذریعے نتائج مسلط کیے جاتے ہیں، جس سے عوام کا ریاست پر اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار حل صرف سیاسی مذاکرات اور بامعنی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ افسوس کہ حکومت کا موجودہ طرزِ عمل اور بیانیہ طاقت کے استعمال پر مبنی ہے، جو مسائل کے حل کے بجائے کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔میر کبیر احمد محمد شہی نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو آزادی اظہار رائے،انجمن سازی اور بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے لیکن حقوق کی بات کرنے پر ماورائے آئین و قانون گرفتار کرکے لاپتہ کیا جاتا ہے۔جو منفی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کا روزگار زراعت، ماہی گیری، اور بارڈر ٹریڈ سے وابستہ رہا ہے، مگر بدقسمتی سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں مسلسل کمی، کچھی کینال منصوبے کی تکمیل میں تاخیر اور مبینہ بدعنوانی، غیر قانونی ٹرالنگ کے باعث ماہی گیروں کی معاشی بدحالی، اور بارڈر ٹریڈ کی بندش نے لاکھوں خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات اور بے روزگاری سے دوچار کر دیا ہے۔مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان کے مسئلے پر منعقد ہونے والی قومی کانفرنس برائے بلوچستان کا خیرمقدم کرتی ہے اور اسے وقت کی اہم ترین ضرورت سمجھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے ذریعے بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری آغا حسین شاہ کامریڈ رشید بلوچ عارف کرد حفیظ بلوچ بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *