Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد اور دیگر نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں، غیر مؤثر طرزِ حکمرانی اور قومی معاملات میں سنجیدہ توجہ کے فقدان کے باعث ملک مسلسل سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں سے دوچار ہے۔ خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا نے عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے عوام بنیادی مسائل کے حل اور پائیدار امن کے لیے اقدامات کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ذاتی اور سیاسی مفادات کو قومی ترجیحات پر مقدم رکھتے ہوئے ملک و قوم کو دوسروں کی جنگ کا ایندھن بنایا جس کے نتیجے میں ملک کو بدامنی، معاشی مشکلات اور بے شمار دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی سلامتی، عوامی مفاد اور ملکی خودمختاری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال کر استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی جانب سے جاری تنظیمی دوروں کا بنیادی مقصد تحصیلوں اور مقامی یونٹوں کی تنظیمی کارکردگی کا جامع جائزہ لینا درپیش مسائل اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا کارکنان سے براہِ راست رابطہ مضبوط بنانا اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال و متحرک بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ضلعی مجلس عاملہ کے اراکین پر مشتمل دس خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جنہوں نے مختلف یونٹوں اور تحصیلوں کے دورے کرتے ہوئے تنظیمی سرگرمیوں، اجلاسوں، ریکارڈ، حاضری، ذمہ داران کی فعالیت اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ بیشتر یونٹوں کے دورے مکمل کیے جاچکے ہیں جبکہ متعلقہ یونٹوں سے ضروری کوائف اور ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دورہ یونٹس کے دوران سامنے آنے والی صورتحال، تنظیمی کمزوریوں، مثبت پیش رفت اور ذمہ داران کی کارکردگی کا ضلعی مجلس عاملہ کے آئندہ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا جس کے بعد تنظیمی بہتری، یونٹوں کی فعالیت، ذمہ داران کی جواب دہی اور آئندہ کے لائح? عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔