Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
بغداد(این این آئی)عراقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ قادسیہ صوبے کے دارالحکومت دیوانیہ شہر کے ایک پولیس سٹیشن کے اندر زیر حراست خاتون سے اجتماعی جنسی زیادتی کے الزام میں ایک افسر اور تین پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی و سیکیورٹی کارروائی کی گئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ کے سینئر انڈر سیکرٹری حسین العوادی نے تمام ملزموں کو فوری طور پر حراست میں لے کر متعلقہ تحتیقاتی و عدالتی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وزارت انسان کی عزت نفس کو مجروح کرنے یا قانون اور فوجی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی اقدام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دیوانیہ کی تفتیشی عدالت کے جج نے نصرت میں موجود خاتون کے بیان کی روشنی میں افسر اور تینوں اہلکاروں کو تفتیش کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ خاتون نے ان پر “النہضہ” پولیس سٹیشن کے اندر خود سے زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ دیوانیہ پولیس کمانڈ نے ملزمان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف تفتیشی کونسل تشکیل دے دی ہے تاکہ تفتیش مکمل کر کے واقعے کے حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ عدالتی کارروائی کے ساتھ ساتھ انتظامی و انضباطی اقدامات بھی جاری ہیں۔قانونی تناظر میں قانونی ماہر علی التمیمی نے وضاحت کی کہ عراقی قانونِ تعزیرات میں جنسی زیادتی کے جرائم کی شدید سزائیں مقرر ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ دفعہ 393 کے تحت بغیر رضامندی زبردستی زنا بالرجب کی سزا 20 سال کی قیدِ با مشقت تک ہو سکتی ہے۔علی التمیمی نے مزید کہا کہ ملزمان کا اپنی سرکاری حیثیت اور عہدے کا حراستی مرکز کے اندر استعمال کرنا، دفعہ 332 کے تحت ایک اضافی بوجھ یا “شدید جرم” شمار ہوگا۔ یہ دفعہ سرکاری عہدے کے ذریعے سختی یا تشدد کرنے سے متعلق ہے جس سے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں سزا مزید سخت ہو سکتی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عراقی قانون کی دفعہ 47 کے تحت اس جرم میں شراکت داروں اور معاونین کو بھی اصل مجرم ہی تصور کیا جائے گا۔ یعنی وہ بھی انہی سزاں کے مستحق ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر جرم کے ساتھ کچھ دیگر شدید حالات مل جائیں۔ مثلا تشدد کے باعث موت واقع ہونا ۔ تو عدالتی فیصلے کے مطابق سزا موت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔