روس کے ساتھ زرعی شراکت داری پاکستان کیلئے خود کفالت کا نادر موقع ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ویب ڈیسک)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان زرعی تعاون کو محض زرعی اجناس کی تجارت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے جدید ٹیکنالوجی، مشینری، تحقیق اور مقامی پیداوار کے جامع منصوبے میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ روسی جدید ٹریکٹرز، ہارویسٹرز، بیج بونے اور آبپاشی کی مشینری کے استعمال سے پاکستان میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، فصلوں کے نقصانات کم کرنے اور پیداواری لاگت گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔ روسی ماہرین کی معاونت سے فرٹیلائزر پلانٹس کو جدید بنا کر کھاد کی مقامی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ مویشی پالنے کے شعبے میں تعاون بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ روسی ویکسین، تشخیصی نظام، حیوانی صحت کی ٹیکنالوجی اور ویٹرنری تربیت سے فائدہ اٹھا کر پاکستان دودھ، گوشت اور لائیوسٹاک کی پیداوار و برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی مشینری، ویکسین، زرعی ادویات اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی مشترکہ پیداوار کیلئے راغب کیا جانا چاہیے۔ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مقامی مینوفیکچرنگ سے درآمدی انحصار کم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے شراکت دار کی ضرورت ہے جو صرف مصنوعات فروخت نہ کرے بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی مہارت بھی منتقل کرے۔ روس کے ساتھ تعاون پاکستان کے زرعی اور لائیوسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا قابلِ عمل راستہ فراہم کرتا ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ روس کے ساتھ مربوط زرعی شراکت داری پاکستان کی پیداواری لاگت کم، غذائی تحفظ مضبوط، درآمدی انحصار محدود اور زرعی و لائیوسٹاک معیشت کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *