حکومت مائنز اور منرلز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، شفافیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے،صوبائی وزیر خزانہ و مائنز ومنرل میر شعیب نوشیروانی

کوئٹہ(ویب ڈیسک) صوبائی وزیر خزانہ، مائنز و منرل ڈویلپمنٹ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے دفتر کا دورہ کیا اور وائس چیئرمین بلال خان کاکڑسے ملاقات کی،اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علاؤالدین مری بھی موجود تھے، ملاقات میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، بالخصوص مائنز و منرلز کے شعبے میں موجود وسیع امکانات، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور پائیدار معاشی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال، قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے موجود مواقع کا جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر خزانہ، مائنز و منرل ڈویلپمنٹ میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان کے معدنی وسائل کو صوبے کی معاشی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مائنز اور منرلز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ، شفافیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے بی بی او آئی ٹی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل کو جدید اور پائیدار طریقوں سے بروئے کار لا کر بلوچستان کو معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنایا جا سکتا ہے۔ وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا کہ مائنز و منرلز سیکٹر میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے شفاف، آسان اور سرمایہ کار دوست طریقہ کار ناگزیر ہے، بلوچستان قدرتی وسائل، خصوصاً معدنیات کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ صوبے میں مختلف اقسام کے قیمتی اور اہم معدنی ذخائر موجود ہیں جنہیں جدید ٹیکنالوجی، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے معاشی ترقی کے ایک مضبوط ذریعہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وڑن کے مطابق بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، سرمایہ کاروں کو مؤثر سہولیات فراہم کرنے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بلوچستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کے مفادات، پائیدار ترقی اور ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *