حوثی حملوں کے بعد پرانی ایرانی و اسرائیلی خفیہ آئل پائپ لائن توجہ کا مرکز بن گئیایران اور اسرائیل کے درمیان خفیہ پائپ لائن 254 کلومیٹر طویل ہے،بھارتی میڈیا

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک)بھارت میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں سے تازہ ترین تیل برآمدات کو درپیش علاقے کے درمیان اسرائیل میں موجود ایک خفیہ پائپ لائن مرکز میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ طویل عرصہ 1960 کی خلیج میں ایران کے شاہ محمد رضا پہلوی کے دور میں بنایا گیا۔ اس پائپ لائن کا مقصد ایرانی خام تیل کو بہیرہ احمر کی بندرگاہ ایلات سے اسرائیل کے شہر اشکلون کو استعمال نہیں کرنا تھا تاکہ وہاں سے سوئیز کو محفوظ جاکر اجازت دینے کا دعویٰ کیا جائے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ختم ہو گئے اور پائپ لائن کا کنٹرول اسرائیل نے اسرائیل کو دے دیا۔ پانی پی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باب المند کو استعمال کرنے کے لیے اب بھی ضروری ہے کہ جہاں کا تیل بندرگاہ اور آبشار کے علاقے کے مطابق کوہائی جہاز کو بھیج دیا گیا ہے وہاں سے اسرائیل کی دو پائپ لائنوں کے ذریعے خود کو اشیا منتقل کیا جا سکتا ہے۔ میں تکنیکی خرابیوں، تخریب کاری اور راکٹ سے رابطہ کر لیتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *